
سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس
اتر پردیش کے ضلع مئو سے رکن اسمبلی عباس انصاری کو سپریم کورٹ سے اہم راحت ملی ہے، جس کے بعد ان کی اسمبلی رکنیت فی الحال برقرار رہے گی۔ نفرت انگیز تقریر سے متعلق ایک معاملے میں سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا ہے جس میں نچلی عدالت کی طرف سے سنائی گئی سزا پر روک لگائی گئی تھی۔ اس تازہ فیصلے کے بعد عباس انصاری کی رکنیت پر فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں رہا۔
Published: undefined
اصل معاملہ نفرت انگیز تقریر کے ایک مقدمے سے جڑا ہے، جس میں نچلی عدالت نے عباس انصاری کو قصوروار قرار دیتے ہوئے سزا سنائی تھی۔ اس سزا کے بعد ان کی اسمبلی رکنیت خطرے میں آ گئی تھی اور سیاسی حلقوں میں اس پر بحث تیز ہو گئی تھی۔ تاہم بعد میں الہ آباد ہائی کورٹ نے اس سزا پر روک لگا دی تھی، جس سے ان کی رکنیت وقتی طور پر محفوظ ہو گئی تھی۔
Published: undefined
ریاستی حکومت نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ ہائی کورٹ نے سزا پر روک لگا کر غلط فیصلہ دیا ہے اور اسے منسوخ کیا جانا چاہیے تاکہ قانونی کارروائی آگے بڑھ سکے۔ اس سلسلے میں حکومت نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی اور ہائی کورٹ کے حکم کو ختم کرنے کی مانگ کی تھی۔
سپریم کورٹ میں اس معاملے کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ کے سامنے ہوئی، جہاں دونوں فریقوں کی تفصیلی دلائل سنی گئیں۔ سماعت کے بعد عدالت نے ریاستی حکومت کی عرضی کو مسترد کر دیا اور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
Published: undefined
سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہائی کورٹ کی طرف سے دی گئی راحت بدستور جاری رہے گی اور عباس انصاری کی سزا پر روک قائم رہے گی۔ قابل ذکر ہے کہ نچلی عدالت کے فیصلے کے بعد ان کی رکنیت پر سنجیدہ سوالات اٹھے تھے، لیکن ہائی کورٹ کے حکم نے انہیں فوری راحت دی تھی۔ اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ صورت حال مزید واضح ہو گئی ہے کہ فی الحال ان کی سیاسی حیثیت محفوظ ہے اور قانونی لڑائی کا اگلا مرحلہ مستقبل میں طے ہوگا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined