
سپریم کورٹ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا نام بدلنے سے متعلق عرضی کو خارج کر دیا ہے۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی بنچ نے عرضی خارج کرتے ہوئے عرضی دہندہ سے سوالیہ انداز میں یہ بھی کہا کہ ’’آپ چاہتے ہیں کہ ہم یہ کریں۔‘‘
عرضی وکیل رودر وکرم سنگھ نے داخل کی تھی اور اس میں کہا تھا کہ مرکزی یونیورسٹی کا نام علی گڑھ مسلم یونیورسٹی رکھنا فرقہ واریت کو فروغ دینے والا ہے۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ایسا نام رکھنا آئین کی دفعہ 27 کے خلاف ہے۔ یہ آئین کے اصل جذے کے خلاف ہے۔ عرضی میں مرکزی حکومت، وزارت برائے فروغ انسانی وسائل، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کو فریق بنایا گیا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔