
سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس
سپریم کورٹ نے ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں طلبہ یونین انتخابات کرانے کے مطالبے پرسماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ 2006 میں سپریم کورٹ نے لنگدوہ کمیٹی کی سفارشات کو قبول کرتے ہوئے ان کی بنیاد پر مستقبل میں طلبہ یونین کے انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا لیکن کئی یونیورسٹیوں میں انتخابات نہیں ہو رہے ہیں۔
Published: undefined
وکیل شیو کمار ترپاٹھی اور دو سابق طلبہ لیڈروں کی طرف سے دائر درخواست چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باغچی کی بنچ میں لگی تھی۔ ججوں نے شروع میں ہی سوال کیا کہ درخواست کا مقصد کیا ہے؟ یونیورسٹی میں انتخابات ہورہے ہیں یا نہیں، سپریم کورٹ اس میں مداخلت کیوں کرے؟
Published: undefined
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ وہ صرف کیرالہ یونیورسٹی کیس میں آئےعدالت کے حکم کی تعمیل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ طلبہ یونین کے مفاد کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان کے انتخابات ملک میں نئے لیڈروں کے ابھرنے کو فروغ دیں گے۔ یہ جمہوریت کے لیے بھی ضروری ہے۔
Published: undefined
درخواست گزار کے وکیل کے دلائل سے جج غیر متاثر نظرآئے۔ انہوں نے درخواست کو پبلسٹی اسٹنٹ قرار دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لوگوں کو غیر ضروری درخواستیں دائر کرکے عدالت پر بوجھ نہیں بڑھانا چاہئے۔ عدالت نے کہا کہ درخواست گزار کالج کیمپس کو سیاسی میدان بنانے کا خواہشند لگتا ہے۔ ان ریمارکس کے ساتھ عدالت نے درخواست خارج کر دی۔
Published: undefined
واضح رہے کہ یونیورسٹی اور کالج اسٹوڈنٹ یونین کے انتخابات میں بے ضابطگیوں کو دور کرنے کے لیے 2006 میں حکم نامہ جاری کیا گیا تھا۔ اس حکم کے ذریعہ یہ یقینی بنایا گیا تھا کہ صرف سیاست کرنے کے لیے ادھیڑ عمر تک یونیورسٹی میں جمے رہنے والے لوگ باہر ہوجائیں۔ پڑھائی میں سنجیدہ اور کم سے کم 75 فیصد حاضری والے طلبا ہی الیکشن لڑیں۔
Published: undefined
سپریم کورٹ کا حکم جس لنگدوہ کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر دیا گیا تھا اس میں طلبہ یونین انتخابات باقاعدہ طور سے کرانے کی بات بھی کہی گئی تھی۔ درخواست گزار نے استدلال کیا کہ ریاستی حکومتوں نے یا تو طلبہ یونین کے انتخابات کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا ہے یا انہیں مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ عدالت کے حکم کی تعمیل نے کرکے حکومتیں اور یونیورسٹیاں توہین کی مرتکب ہو رہی ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined