قومی خبریں

راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے راحت، ساورکر پر تبصرے سے متعلق مقدمہ منسوخ

سپریم کورٹ نے ساورکر پر تبصرے سے متعلق راہل گاندھی کے خلاف فوجداری شکایت اور لکھنؤ مجسٹریٹ کا سمن منسوخ کر دیا۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ مقدمہ چلانے کے لیے ضروری منظوری موجود نہیں ہے

<div class="paragraphs"><p>قائد حزب اختلاف راہل گاندھی / ویڈیو گریب</p></div>

قائد حزب اختلاف راہل گاندھی / ویڈیو گریب

 

سپریم کورٹ نے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی کے خلاف ہندوتوا نظریہ ساز ونایک دامودر ساورکر کے بارے میں کیے گئے تبصروں سے متعلق فوجداری شکایت اور نچلی عدالت کی جانب سے جاری سمن منسوخ کر دیا۔ ’دی ہندی‘ کی رپورٹ کے مطابق، عدالت عظمیٰ نے یہ فیصلہ مقدمہ چلانے کے لیے ضروری قانونی منظوری نہ ہونے کی بنیاد پر سنایا۔

جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس شیل ناگو پر مشتمل بنچ نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے اتر پردیش حکومت کی جانب سے داخل حلف نامہ کا حوالہ دیا، جس میں اس مقدمہ کے سلسلہ میں ضروری منظوری دیے جانے کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ جسٹس دتا نے ریاستی حکومت اور شکایت کنندہ سے کہا کہ قانونی منظوری ضروری ہے، لیکن یہاں ایسی کوئی منظوری موجود نہیں ہے، اس لیے قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔

عدالت نے اس بنیاد پر لکھنؤ کے رہائشی نرپیندر پانڈے کی جانب سے دائر شکایت اور لکھنؤ کے مجسٹریٹ کی جانب سے راہل گاندھی کو جاری کیے گئے سمن، دونوں کو منسوخ کر دیا۔

خیال رہے کہ یہ معاملہ راہل گاندھی کے 17 نومبر 2022 کو مہاراشٹر کے اکولا ضلع میں ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے دوران ایک جلسہ میں ساورکر کے بارے میں دیے گئے بیان سے متعلق تھا۔ شکایت کنندہ وکیل نرپیندر پانڈے نے الزام عائد کیا تھا کہ راہل گاندھی نے جان بوجھ کر ساورکر کی توہین کی اور ان کے خلاف ایسے تبصرے ایک منصوبہ بند سازش کا حصہ ہیں۔

شکایت میں راہل گاندھی کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 153 اے اور 505 کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ الزام تھا کہ ان کے تبصرے سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرنے اور لوگوں کے درمیان دشمنی پیدا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔

اس معاملے میں راہل گاندھی نے نچلی عدالت کے سمن کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے 4 اپریل 2025 کو ان کی درخواست پر مداخلت سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سیشن کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد راہل گاندھی نے سپریم کورٹ کا رخ کیا۔

سپریم کورٹ نے اپریل 2025 میں اس معاملے کی کارروائی پر عبوری روک لگا دی تھی اور بعد میں جولائی 2025 میں سمن پر عائد روک میں توسیع کی تھی۔ جولائی میں اتر پردیش حکومت نے عدالت میں اپنے حلف نامہ کے ذریعہ نچلی عدالت کے فیصلہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجسٹریٹ نے دستیاب مواد، گواہوں کے بیانات اور تفتیشی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد سمن جاری کیا تھا۔

تاہم آج جمعہ کو سپریم کورٹ نے مقدمہ چلانے کے لیے درکار منظوری نہ ہونے کو بنیادی قانونی خامی قرار دیتے ہوئے شکایت اور مجسٹریٹ کے احکامات ہی منسوخ کر دیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔