
سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس
نئی دہلی: ملک بھر کے لاکھوں سرکاری اساتذہ کے لیے سپریم کورٹ نے ایک نہایت اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ تدریسی ملازمت میں برقرار رہنے اور ترقی حاصل کرنے کے لیے ٹیچرز اہلیت امتحان (ٹی ای ٹی) پاس کرنا ضروری ہوگا۔ عدالت عظمیٰ نے ان درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے جن میں بعض اساتذہ اور ان کی تنظیموں کی جانب سے ٹی ای ٹی سے استثنا دینے کی مانگ کی گئی تھی۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سال 2009 سے پہلے سرکاری اسکولوں میں تقرر پانے والے اساتذہ کے لیے بھی ٹی ای ٹی کی شرط لاگو ہوگی۔ عدالت کا ماننا ہے کہ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے اساتذہ کی پیشہ ورانہ اہلیت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
Published: undefined
سماعت کے دوران عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ اساتذہ صرف اپنی ملازمت بچانے یا ترقی حاصل کرنے کے بارے میں نہ سوچیں بلکہ بچوں کے بہتر مستقبل اور معیاری تعلیم کی فراہمی کو بھی اپنی ترجیح بنائیں۔ بنچ نے کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے اور اساتذہ کا کردار نئی نسل کی تشکیل میں سب سے اہم سمجھا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے ستمبر 2025 میں اپنے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ سرکاری اساتذہ کو اپنی ملازمت برقرار رکھنے اور ترقی کے لیے ٹی ای ٹی پاس کرنا ہوگا۔ اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواستوں کی صورت میں مجموعی طور پر 65 عرضیاں عدالت میں دائر کی گئی تھیں۔ ان درخواستوں میں مختلف ریاستوں کے اساتذہ کی تنظیمیں بھی شامل تھیں، جنہوں نے عدالت سے ٹی ای ٹی کی شرط میں نرمی یا استثنا دینے کی اپیل کی تھی۔
Published: undefined
تاہم سپریم کورٹ نے نظرثانی کی تمام درخواستیں مسترد کرتے ہوئے اپنے سابقہ فیصلے کو برقرار رکھا۔ اس کے باوجود عدالت نے اساتذہ کو ایک اہم راحت بھی فراہم کی۔ پہلے ٹی ای ٹی پاس کرنے کی آخری تاریخ 31 اگست 2027 مقرر کی گئی تھی، لیکن اب اسے بڑھا کر 31 اگست 2028 کر دیا گیا ہے۔ اس طرح ایسے اساتذہ جنہوں نے ابھی تک ٹی ای ٹی امتحان کامیابی سے پاس نہیں کیا، انہیں مزید ایک سال کا اضافی وقت مل گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق عدالت کا یہ فیصلہ تعلیمی معیار میں بہتری کی کوششوں کو تقویت دے سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک مشترکہ اہلیتی معیار اس بات کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا کہ ملک بھر کے طلبہ کو بہتر تربیت یافتہ اور قابل اساتذہ میسر آئیں۔
Published: undefined
قومی کونسل برائے اساتذہ تعلیم نے ملک کے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کے مقصد سے ٹی ای ٹی کو ایک اہم معیار کے طور پر نافذ کیا تھا۔ اسی پالیسی کے تحت سرکاری تدریسی نظام میں اہلیت اور معیار کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کو اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے، جو مستقبل میں تدریسی شعبے کے معیار پر دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined