
سپریم کورٹ آف انڈیا
سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش حکومت سے کہا ہے کہ وہ دھار بھوج شالہ کے قریب جمعہ کی نماز سے متعلق عدالت کے حکم پر صحیح طریقے سے عمل کرے۔ مسلم فریق نے شکایت کی تھی کہ نماز کے لیے بتائی گئی جگہ کافی دور ہے۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو بہتر جگہ فراہم کرنے کے لیے کہتے ہوئے جمعہ کو سماعت کی بات کہی۔
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے دھار بھوج شالہ کو 11ویں صدی میں تعمیر ہونے والا دیوسی سرسوتی مندر قرار دیا تھا۔ متنازعہ احاطے کو کمال الدین مسجد ہونے کا دعویٰ خارج کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے وہاں نماز بند کرنے کے لیے کہا تھا۔ 14 جولائی کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگانے سے انکار کرتے ہوئے تفصیلی سماعت کی بات کہی تھی۔ سپریم کورٹ نے عبوری انتظام کے طور پر مسلم فریق کو احاطے کے نزدیک کی کوئی جگہ جمعہ کی نماز کے لیے فراہم کرنے کو کہا تھا۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باغچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ کے سامنے مسلم فریق کی طرف سے سینئر وکیل حذیفہ احمدی پیش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ’’انتظامیہ کی طرف سے نماز کے لیے دی گئی جگہ بھوج شالہ احاطہ سے 2 کلومیٹر دور ہے۔ اس کی وجہ سے نمازی جمعہ کی نماز ادا نہیں کر پا رہے ہیں۔‘‘
مدھیہ پردیش حکومت کی طرف سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے احمدی کے دعوے کی تردید کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نئی جگہ کا فاصلہ تقریباً 900 میٹر ہے۔ مہتا نے کہا کہ انتظامیہ احاطے کے مزید قریب جگہ فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ امید ہے کہ نئی جگہ کی شناخت جلد کر لی جائے گی۔ عدالت اور عرضی گزار نے ریاستی حکومت کی اس یقین دہانی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت 24 جولائی کو طے کی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔