قومی خبریں

سپریم کورٹ کا آدھار جاری کرنے میں سختی کی عرضی پر سماعت سے انکار، حکومت سے رجوع کا مشورہ

سپریم کورٹ نے آدھار جاری کرنے کے قواعد سخت کرنے کی عرضی پر سماعت سے انکار کرتے ہوئے اسے پالیسی کا معاملہ قرار دیا اور عرضی گزار کو حکومت سے رجوع کا مشورہ دیا

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس

 

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کے روز آدھار کارڈ جاری کرنے کے عمل کو مزید سخت بنانے سے متعلق ایک مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت سے انکار کر دیا اور عرضی گزار کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی مانگ حکومت کے متعلقہ محکمے کے سامنے رکھیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس نوعیت کے معاملات بنیادی طور پر پالیسی سے جڑے ہوتے ہیں اور ان پر فیصلہ سازی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔

Published: undefined

یہ عرضی وکیل اشونی اپادھیائے کی جانب سے داخل کی گئی تھی، جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ آدھار کارڈ کے اجرا کے موجودہ قواعد میں تبدیلی ضروری ہے تاکہ نظام میں شفافیت اور سختی کو یقینی بنایا جا سکے۔ عرضی میں تجویز پیش کی گئی تھی کہ آدھار کارڈ صرف 6 سال تک کی عمر کے بچوں کو جاری کیا جائے، جبکہ اس کے بعد بالغ افراد کے لیے ایک باقاعدہ اور سخت طریقہ کار مقرر کیا جائے۔

عرضی گزار نے یہ بھی مانگ کی تھی کہ 6 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو آدھار جاری کرنے سے پہلے سب ڈویژنل مجسٹریٹ یا تحصیل دار کے دفتر سے اجازت حاصل کرنا لازمی قرار دیا جائے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف عمل میں جوابدہی بڑھے گی بلکہ فرضی دستاویزات کے استعمال کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔

Published: undefined

اشونی اپادھیائے نے عدالت میں دلیل دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں تقریباً 144 کروڑ آدھار کارڈ ہولڈرز موجود ہیں اور لگ بھگ 99 فیصد آبادی کے پاس آدھار دستیاب ہے۔ مزید یہ کہ قریب 55 کروڑ جن دھن کھاتے آدھار سے منسلک ہیں، اس لیے اس نظام کی مضبوطی اور درستگی بے حد اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اجرا کے طریقہ کار میں مناسب سختی نہ لائی گئی تو مستقبل میں اس کے غلط استعمال کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

عرضی میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ کئی مقامات پر صرف کرائے کے پتے یا عام نوعیت کے کاغذات کی بنیاد پر بھی آدھار کارڈ بن جاتا ہے، جس کے نتیجے میں دیگر اہم دستاویزات حاصل کرنا بھی آسان ہو جاتا ہے اور اس سے نظام میں بے ضابطگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ انہوں نے حالیہ ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ممبئی میں تقریباً 87 ہزار فرضی دستاویزات ملنے کی بات سامنے آئی تھی، جو اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔

Published: undefined

تاہم سپریم کورٹ نے اس معاملے پر براہ راست مداخلت سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتظامی اور پالیسی سے متعلق موضوع ہے، جس پر پہلے حکومت کو غور کرنا چاہیے۔ عدالت نے عرضی گزار کو ہدایت دی کہ وہ اپنی تجاویز اور مانگوں کو مرکزی حکومت کے سامنے پیش کریں تاکہ اس پر مناسب سطح پر فیصلہ لیا جا سکے۔

عدالت کے اس فیصلے کو انتظامی خود مختاری کے اصول کے تحت دیکھا جا رہا ہے، جہاں عدلیہ پالیسی سازی میں براہ راست مداخلت کے بجائے حکومت کو فیصلہ سازی کا موقع دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بحث بھی جاری ہے کہ آدھار جیسے اہم شناختی نظام میں شفافیت، تحفظ اور سختی کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے تاکہ عوامی مفاد کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined