قومی خبریں

’راجستھان ایس آئی بھرتی 2021‘ معاملے میں آیا سپریم کورٹ کا فیصلہ، منتخب امیدواروں کو نہیں ملی راحت

سماعت کے دوران عدالت نے انتہائی سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بھرتی امتحان کی شفافیت اور غیر جانبداری ختم ہو جائے، تو پورے انتخابی عمل پر سوال اٹھنا فطری ہے اور ایسے انتخاب کو بچایا نہیں جا سکتا۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس

 

راجستھان کے مشہور ’سب انسپکٹر بھرتی-2021‘ معاملے میں آج سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ آیا ہے۔ عدالت نے راجستھان ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے واضح کر دیا کہ پیپر لیک اور بڑے پیمانے پر ہونے والی بے ضابطگیوں سے متاثرہ بھرتی کے عمل کو کسی بھی قیمت پر منظوری نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے منتخب امیدواروں کی جانب سے دائر کردہ اسپیشل لیو پیٹیشن (ایس ایل پی) کی درخواست خارج کر دی۔

Published: undefined

اس معاملے کی سماعت جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس ستیش چندر شرما کے بنچ میں ہوئی۔ سماعت کے دوران عدالت نے انتہائی سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بھرتی امتحان کی شفافیت اور غیر جانبداری ختم ہو جائے، تو پورے انتخابی عمل پر سوال اٹھنا فطری ہے اور ایسے انتخاب کو بچایا نہیں جا سکتا۔ منتخب امیدواروں کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ ابھیشیک منو سنگھوی نے عدالت میں دلیل دی کہ جن امیدواروں نے غلط طریقے سے انتخاب پایا تھا، ان کے خلاف پہلے ہی کارروائی ہو چکی ہے۔ ساتھ ہی منتخب امیدواروں کی تربیت پر حکومت کروڑوں روپے خرچ کر چکی ہے، اس لیے پوری بھرتی کو منسوخ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ تاہم سپریم کورٹ ان دلائل سے مطمئن نہیں ہوا۔

Published: undefined

سپریم کورٹ نے اس کے ساتھ ہی راجستھان پبلک سروس کمیشن (آر پی ایس سی) کے اس وقت کے چیئرمین سنجے چھتریہ کی درخواست بھی خارج کر دی۔ انہوں نے ہائی کورٹ کی سنگل بنچ کی جانب سے کیے گئے سخت تبصروں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہا کہ یہ معاملہ مفاد عامہ سے جڑا ہے، اس لیے عدالت کے تبصرے ہٹانے کی کوئی بنیاد نہیں بنتی۔

Published: undefined

واضح رہے کہ اس معاملے کی شروعات تب ہوئی جب راجستھان ہائی کورٹ کی سنگل بنچ نے 28 اگست 2025 کو بھرتی کے عمل میں بڑے پیمانے پر پیپر لیک، ڈمی امیدواروں، نقل اور بااثر افراد کے کردار جیسے سنگین الزامات کو دیکھتے ہوئے پوری بھرتی منسوخ کر دی تھی۔ بعد میں ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے بھی 4 اپریل 2026 کو اس فیصلے کو درست قرار دیا تھا۔ اب سپریم کورٹ نے بھی اسی فیصلے پر مہر لگا دی ہے۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ 2021 میں 859 اسامیوں کے لیے یہ بھرتی نکالی گئی تھی۔ تقریباً 8 لاکھ نوجوانوں نے درخواست دی تھی اور قریب 3.8 لاکھ امیدوار امتحان میں شریک ہوئے تھے۔ تحقیقات کے دوران کئی حیران کن انکشافات ہوئے۔ کمیشن کے اس وقت کے اراکین تک کے خلاف کارروائی ہوئی اور کئی ملزمان جیل بھیجے گئے۔ اس معاملے میں اب تک ہونے والی کارروائی میں تقریباً 70 منتخب امیدواروں سمیت 130 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined