قومی خبریں

او بی سی ریزرویشن معاملہ پر سپریم کورٹ نے مودی حکومت کو دیا جھٹکا، سابقہ فیصلہ برقرار رکھنے کا حکم

11 مارچ 2026 کے اس فیصلہ کو سپریم کورٹ نے برقرار رکھا ہے جس میں جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آر مہادیون کی بنچ نے کہا تھا کہ او بی سی کریمی لیئر کا تعین صرف آمدنی کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ / آئی اے این ایس</p></div>

سپریم کورٹ / آئی اے این ایس

 

او بی سی ریزرویشن میں کریمی لیئر طے کرنے کے معیار کو لے کر سپریم کورٹ نے مرکز کی مودی حکومت کو بڑا جھٹکا دیا ہے۔ عدالت نے مرکزی حکومت کی درخواست خارج کرتے ہوئے 11 مارچ 2026 کو دیے گئے اپنے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آر مہادیون کی بنچ نے واضح کیا کہ کریمی لیئر کا تعین کرنے کے لیے والدین کی تنخواہ اور زراعت سے ہونے والی آمدنی کو تنہا بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔

سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ سول سروس امتحان پاس کرنے کے باوجود محکمۂ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) کی جانب سے غلط طریقے سے تقرری سے محروم کیے گئے اہل امیدواروں کو تقرری دی جائے۔ ان میں آئی اے ایس، آئی پی ایس، آئی آر ایس سمیت دیگر مرکزی خدمات کے لیے منتخب امیدوار شامل ہیں، جو عدالت کے مقرر کردہ معیار کے تحت او بی سی نان کریمی لیئر کے اہل پائے جاتے ہیں۔ عدالت کے حکم کے بعد اس معاملے کی پیروی کرنے والے وکیل ششانک رتنوں نے اسے او بی سی طبقے کی بڑی جیت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے تقریباً ایک دہائی سے جاری ناانصافی کا خاتمہ ہوا ہے۔

دراصل یہ تنازعہ ان او بی سی امیدواروں سے متعلق ہے، جنہوں نے سول سروس امتحان پاس کیا تھا، لیکن ان کے والدین کی تنخواہ کو کریمی لیئر طے کرنے کی بنیاد بنا کر انہیں او بی سی نان کریمی لیئر کا فائدہ دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ ان امیدواروں کے والدین سرکاری شعبے کے اداروں(پی ایس یو)، بینکوں اور نجی اداروں میں کام کرتے تھے۔ محکمۂ عملہ و تربیت نے ان کی تنخواہ اور آمدنی کی بنیاد پر کریمی لیئر کا تعین کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں کچھ امیدواروں کو او بی سی ریزرویشن کے تحت خدمات الاٹ نہیں کی گئیں۔ امیدواروں نے اس فیصلے کو چیلنج کیا۔ مرکزی انتظامی ٹریبونل کے علاوہ مدراس، دہلی اور کیرالہ ہائی کورٹ سے بھی انہیں راحت ملی۔ اس کے بعد مرکزی حکومت نے ان احکامات کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔