قومی خبریں

پیکیجڈ فوڈ پر ’وارننگ‘ ڈالنے میں تاخیر سے سپریم کورٹ برہم، ’ایف ایس ایس اے آئی‘ کی سرزنش، نمک اور سوڈیم ڈاٹا پر جواب طلب

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ پہلے ہوئی میٹنگ میں اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ’ایف ایس ایس اے آئی‘ نے کچھ باتوں پر رضا مندی ظاہر کی تھی، لیکن اب انہوں نے اپنی باتوں سے انحراف اختیار کیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا

 

سپریم کورٹ نے پیکڈ فوڈ پر وارننگ کی سطح سے متعلق ’ایف ایس ایس اے آئی‘ پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ پیکجنگ پر وارننگ میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں مزید تفصیلات طلب کی ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی پوچھا ہے کہ نمک اور سوڈیم کی مقدار سے متعلق وارننگ پر کیا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پہلے ہوئی میٹنگ میں اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ’ایف ایس ایس اے آئی‘ نے کچھ باتوں پر رضا مندی ظاہر کی تھی، لیکن اب انہوں نے اپنی باتوں سے انحراف اختیار کیا ہے۔

وکیل نے کہا کہ آج ’ایف ایس ایس اے آئی‘ نے یو ٹرن لے لیا ہے، جو پہلے سے طے شدہ تھا، اس سے مختلف رخ اپنایا ہے۔ اس معاملے پر سینئر ایڈووکیٹ منندر سنگھ نے عدالت میں اپنی دلیل رکھی۔ انہوں نے بتایا کہ ’آئی سی ایم آر‘ کی گائیڈ لائن میں 2 زمرہ طے کیا گیا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اشیاء خورد و نوش کی جانچ خصوصی شرائط کی بنیاد پر ہونی چاہئے۔ یعنی ٹیسٹنگ 100 گرام کی مقدار پر اور ساتھ ہی ہر سرونگ کی مقدار پر بھی ہونی چاہئے، تاکہ صارفین کو صحیح جانکاری مل سکے۔

جسٹس پاردی والا نے کہا کہ عدالت نے بھی اس موضوع پر اپنی سطح پر تحقیق کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج اس معاملے میں آرڈر پاس کیا جائے گا، جو شام تک یا پھر کل تک اپلوڈ ہو جائے گی۔ جسٹس پاردی والا نے وکلاء سے کہا کہ وہ اس حکم کا مطالعہ کریں، اس کے بعد عدالت میں واپس آئیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’ایف ایس ایس اے آئی‘ اور مرکزی حکومت بھی اس حکم کو بغور پڑھے، تاکہ آگے کی سماعت میں اس پر صحیح طریقے سے بات ہوسکے۔ یہ معاملہ پیکڈ فوڈ پروڈکٹس پر ’ہیلتھ وارننگ لیبل‘ سے وابستہ ہے۔ جس میں زیادہ شکر، نمک اور چربی کی مقدار کی اطلاع صارفین کو واضح طور پر پہچانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔