قومی خبریں

’ہندوستان میں کسی ایک نظریہ اور مذہب کی بالادستی چلنے والی نہیں‘

موب لنچنگ کے حالیہ واقعات اور خاص کر تبریز کے وحشانہ قتل پر اپنی سخت برہمی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مولامدنی نے کہا کہ یہ قتل نہیں درندگی کی انتہا ہے اور ہندستان کے ماتھے پر کلنک اور بدنما داغ ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

نئی دہلی: جمعیتہ علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا ہے کہ ہجومی تشدد ایک مذہبی مسئلہ ہے جس میں مذہبی بنیاد پر لوگوں کو تشدد اور بربریت کانشانہ بنایا جارہا ہے، اس لئے تمام بالخصوص خود کو سیکولر قرار دینے والی سیاسی پارٹیاں میدان عمل میں کھل کر سامنے آئیں اور اس کے خلاف قانون سازی کے لئے عملی اقدام کریں کیوں کہ صرف مذمتی بیان کافی نہیں۔

Published: 04 Jul 2019, 7:10 PM IST

جمعیۃعلماء ہند کی مجلس عاملہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا مدنی نے انتباہ دینے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں کسی ایک نظریہ اور مذہب کی بالادستی چلنے والی نہیں ہے یہ ملک سب کا ہے ہندوستان ہمیشہ سے گنگا-جمنی تہذیب کا علمبردار ہے اور اسی راہ پر چل کر ہی ملک کی ترقی ممکن ہے۔

Published: 04 Jul 2019, 7:10 PM IST

موب لنچنگ کے حالیہ واقعات اور خاص کر تبریز انصاری کے وحشانہ قتل پر اپنی سخت برہمی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مولامدنی نے کہا کہ یہ قتل نہیں درندگی کی انتہا ہے اور ہندستان کے ماتھے پر کلنک اور بدنما داغ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ جھارکھنڈ موب لنچنگ کی ایک پریوگ شالہ بن گئی ہے، جہاں اب تک 19 لوگ موب لنچنگ کا شکار ہوچکے ہیں، جس میں گیارہ مسلم ہیں اور دیگر دلت اور آدیواسی ہیں۔

Published: 04 Jul 2019, 7:10 PM IST

انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ کی سخت ہدایت کے باوجود یہ درندگی رک نہیں رہی ہے۔ سپریم کورٹ کے آرڈر کے بعد بھی اب تک تقریباً 55 لوگ موب لنچنگ کا شکار ہوچکے ہیں اور این ڈے اے کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد 26 مئی سے آج تک 8 افراد موب لنچنگ کا شکار ہوچکے ہیں۔

Published: 04 Jul 2019, 7:10 PM IST

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی سخت ہدایت کے بعد وزارت داخلہ نے تو موب لنچنگ کو روکنے کے لئے تمام ریاستوں کو ہدایت جاری کرکے مؤثر اقدامات کرنے کا حکم دیا تھا، اب اگر اس کے بعد بھی اس طرح کے واقعات نہیں رک رہے ہیں تو پھر اس کا صاف مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو لوگ ایسا کر رہے ہیں انہیں سیاسی تحفظ اور پشت پناہی حاصل ہے؟ صرف اتنا ہی نہیں ضمانت ملنے پر ان ملزمین کا سیاسی لوگ استقبال کرتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہی سب کا ساتھ سب کا وکاس اورسب کا وشواش ہے؟

Published: 04 Jul 2019, 7:10 PM IST

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 04 Jul 2019, 7:10 PM IST