
تصویر/آئی اے این ایس
سری نگر ایئرپورٹ سے سفر کرنے والے مسافروں کے لیے ایک راحت بھری خبر ہے۔ ایئرپورٹ اتھارٹی نے واضح کیا کہ رواں سال سری نگر ایئرپورٹ پر ایئرفیلڈ مکمل طور سے بند نہیں رہے گا۔ سری نگر ایئرپورٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کے ذریعہ اطلاع دی ہے کہ ایئرپورٹ کا کام کاج روزانہ صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔ رنوے کی دیکھ بھال کے لیے رات میں اسے بند رکھنے کا کام اکتوبر 2026 تک جاری رہے گا۔
Published: undefined
ایئرپورٹ حکام نے مزید بتایا کہ پیر اور منگل کو رنوے مکمل طور سے بند رکھنے کے بارے میں پہلے جو نوٹم (نوٹس ٹو ایئرمین) جاری کیا گیا تھا، اسے واپس لیا جا رہا ہے۔ ایئرلائنس موجودہ آپریشن کے وقت مطابق اپنے شیڈول کو اپڈیٹ کرتی رہیں گی۔ مسافروں سے درخواست ہے کہ ایئرپورٹ جانے سے قبل اپنی ایئرلائن سے اپنی فلائٹ کا اسٹیٹس چیک کر لیں اور درست معلومات کے لیے صرف آفیشیل چینلز پر ہی بھروسہ کریں۔
Published: undefined
واضح رہے کہ رنوے کی ضروری دیکھ بھال اور مرمت کے باعث جموں و کشمیر میں سری نگر ایئرپورٹ یکم اکتوبر سے 15 دنوں تک پروازوں کے لیے بند رکھنے کا فیصلہ لیا تھا۔ اس سلسلے میں 12 جون کو جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے 12 جون کو شہری ہوا بازی کے وزیر رام موہن نائیڈو سے ملاقات کی تھی اور دیکھ بھال کے کام کے لیے یکم سے 16 اکتوبر تک سری نگر ہوائی اڈے کو بند کرنے کی تجویز پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
Published: undefined
سیاحت کے پیک سیزن میں وادی کے لیے بلا رکاوٹ ہوائی رابطے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے شہری ہوا بازی کے وزیر سے گزارش کی کہ دیکھ بھال کے شیڈول کا جائزہ لیا جائے اور اگر ممکن ہو تو اسے مختصر کیا جائے، مرحلہ وار کیا جائے یا سیاحت کے کم مصروف وقت میں کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ ہوائی اڈا بند رہنے کے دوران مقامی باشندوں، سیاحوں اور کاروباری طبقے کے لیے رابطہ برقرار رکھنے کی خاطر اونتی پورہ ایئربیس سے محدود تعداد میں سویلین پروازیں چلائی جائیں۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ’ایکس‘ پر لکھا تھا کہ ’’وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ساتھ ہوئی میٹنگ کے بعد میں نے اکتوبر میں سری نگر ایئرپورٹ کو بند کرنے کی تجویز پر تبادلہ خیال کے لیے شہری ہوا بازی کے وزیر رام موہن نائیڈو سے ملاقات کی۔ ہم مسافروں کی پریشانی کو کم کرنے اور بیسک فلائٹ شیڈول کو برقرار رکھنے کے لیے ممکنہ متبادلات پر کام کر رہے ہیں، جیسا کہ 1998 اور 2010 میں اسی طرح کی وجوہات کے باعث ایئرپورٹ بند ہونے پر کیا گیا تھا۔‘‘
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined