
آئی اے این ایس
بنگلورو: کرناٹک کے وزیر داخلہ جی پرمیشور نے کہا ہے کہ جنوبی ریاستوں کو مالی معاملات میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، خاص طور پر جی ایس ٹی کی تقسیم اور بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے معاملے میں انہیں مناسب حصہ نہیں مل رہا۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی ریاستیں اس مسئلے کو اجتماعی طور پر اٹھا رہی ہیں۔ ان کے مطابق یہ صرف کسی ایک ریاست کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے جنوبی خطے کی مشترکہ تشویش ہے۔
Published: undefined
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کے اس موقف کی حمایت کی جس میں ملک کے وفاقی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی بات کہی گئی ہے۔ جی پرمیشور نے کہا کہ اکثر بڑی بنیادی ڈھانچے کی اسکیمیں شمالی ریاستوں کو دی جاتی ہیں جبکہ جنوبی ریاستوں کو ان کا حق نہیں ملتا۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی ریاستیں مرکز کو جی ایس ٹی کی مد میں بڑا حصہ دیتی ہیں اور اس اعتبار سے انہیں وسائل کی تقسیم میں مناسب حصہ ملنا چاہئے۔ ان کے مطابق یہ ایک جائز مانگ ہے اور اسے سنجیدگی سے لیا جانا چاہئے۔
Published: undefined
کرناٹک میں کانگریس کی قیادت والی حکومت پر زیادہ قرض لینے کے الزام کے بارے میں پوچھے جانے پر جی پرمیشور نے کہا کہ ریاست مقررہ حد کے اندر رہ کر ہی قرض لے رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضابطوں کے مطابق قرض لینے کی حد 25 فیصد کے اندر ہونی چاہئے اور کرناٹک اسی دائرے میں رہ کر مالیاتی فیصلے کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار کے لحاظ سے دیکھا جائے تو جنوبی ریاستوں میں کرناٹک کا قرض سب سے کم ہے جبکہ کئی دیگر ریاستوں نے اس سے زیادہ قرض لیا ہے۔ مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں قرض کی مقدار پچانوے لاکھ کروڑ روپے سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔
Published: undefined
وزیر داخلہ نے کہا کہ کرناٹک حکومت مکمل مالیاتی نظم و ضبط کے دائرے میں کام کر رہی ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی تشویش کی ضرورت نہیں ہے۔
وزیر اعلیٰ سدارمیا اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے درمیان اختلافات کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے جی پرمیشور نے کہا کہ اس طرح کے سیاسی واقعات جمہوری عمل کا حصہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی رہنماؤں کے ساتھ شیوکمار کی جانب سے عشائیہ کی میٹنگ بلانا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔
Published: undefined
ان کے مطابق جمہوری سیاست میں ایسے اجلاس پہلے بھی ہوتے رہے ہیں اور 1952 کے پہلے عام انتخابات کے بعد سے ہی سیاسی رہنما اس طرح کی ملاقاتوں کا اہتمام کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام رہنماؤں کو عشائیہ پر مدعو کرنا ایک مثبت قدم ہے جو سیاسی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined