
سوشل میڈیا
نئی دہلی: کانگریس کی سینئر رہنما سونیا گاندھی نے اپنی آنے والی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’بلانگنگ: اے جرنی آف لو‘ کو سیاسی بیان یا سیاسی دستاویز کے بجائے اپنی خاندانی زندگی، رشتوں، جدوجہد اور ذاتی تجربات کی کہانی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس کتاب کے ذریعے اپنے خاندان کی ایک ایسی تصویر پیش کرنا چاہتی ہیں جو ان کے حقیقی کردار، احساسات اور انسانی پہلوؤں کو سامنے لائے۔
سونیا گاندھی نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پہلی ذاتی پوسٹ شیئر کی۔ اس میں انہوں نے اپنے آنجہانی شوہر اور سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کی یادیں بھی بیان کیں اور انہیں ایک انتہائی دلکش شخصیت اور نرم مزاج انسان قرار دیا۔
اپنی پوسٹ میں سونیا گاندھی نے لکھا کہ یہ سیاسی کتاب نہیں بلکہ ذاتی نوعیت کی تحریر ہے۔ ان کے خاندان کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے، لیکن شاذ و نادر ہی اس بات کو سمجھنے کی کوشش کی گئی کہ وہ لوگ حقیقت میں کیسے تھے، ان کے محرکات، جدوجہد اور انسانی کمزوریاں کیا تھیں۔ وہ اپنے خاندان کے افراد کو ان لوگوں کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہیں جنہیں انہوں نے قریب سے جانا اور محبت کی۔
انہوں نے بتایا کہ ایک طویل عرصے تک انہوں نے اپنی نجی زندگی کو محدود رکھا، لیکن عوامی زندگی کی روزمرہ مصروفیات سے دور ہونے کے بعد انہیں اپنی زندگی کے سفر کو زیادہ واضح طور پر دیکھنے اور بیان کرنے کا موقع ملا۔
اس سے قبل جمعرات کو سونیا گاندھی نے انسٹاگرام پر بھی اپنا اکاؤنٹ شروع کیا تھا۔ وہاں انہوں نے اپنی کتاب کو محبت، فرض، جدائی اور اپنائیت کی تلاش کی کہانی قرار دیا تھا۔ 544 صفحات پر مشتمل اس کتاب کا عالمی اجرا 10 نومبر کو ہوگا۔ ہندوستان میں اسے ہارپر کولنز انڈیا شائع کرے گا۔
کتاب کی اشاعت سے قبل سونیا گاندھی نے اخبار ’دی ہندو‘ کو ایک انٹرویو بھی دیا تھا، جس میں انہوں نے نریندر مودی حکومت پر ملک کے جمہوری اداروں کو نقصان پہنچانے، مین اسٹریم میڈیا کو کنٹرول کرنے اور سیاسی فائدے کے لیے مذہب کے استعمال کے الزامات عائد کیے تھے۔
اب تک سونیا گاندھی ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے زیادہ سرگرم نہیں رہی ہیں اور ان کے بیانات عموماً کانگریس کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ کے ذریعے سامنے آتے رہے ہیں۔ ایسے میں کتاب کی اشاعت سے قبل ایکس اور انسٹاگرام پر ان کی ذاتی موجودگی کو ان کے عوامی رابطے کے انداز میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔