قومی خبریں

جودھ پور جیل میں قید سونم وانگچک کی طبیعت بگڑی، پولیس نے ایمس میں کرایا داخل

سونم وانگچک کو جیل سے ایمس جودھپور تک لے جانے سے قبل پورے راستہ کا سیکورٹی انتظام سخت کر دیا گیا تھا۔ جیل احاطہ سے لے کر اسپتال تک اضافی سیکورٹی فورس کی تعیناتی کی گئی تھی۔

<div class="paragraphs"><p>سونم وانگچک</p></div>

سونم وانگچک

 

سپریم کورٹ کی پھٹکار کے بعد لداخ کے مشہور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کو ہفتہ کی صبح ایمس جودھ پور لے جایا گیا جہاں طبی جانچ کرائی گئی۔ بتایا گیا کہ جیل میں آلودہ پانی کے استعمال سے انھیں پیٹ میں سنگین انفیکشن کی شکایت تھی، جس کے بعد طبی جانچ کی ضرورت پڑی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سونم وانگچک کو سخت سیکورٹی انتظام کے درمیان جودھ پور سنٹرل جیل سے ایمس لایا گیا۔

Published: undefined

سونم وانگچک کو جیل سے ایمس جودھ پور تک لے جانے سے قبل پورے راستہ کا سیکورٹی انتظام سخت کر دیا گیا تھا۔ جیل احاطہ سے لے کر اسپتال تک اضافی سیکورٹی فورس کی تعیناتی کی گئی تھی۔ سونم وانگچک کو خصوصی سیکورٹی دائرہ بنا کر اسپتال لے جایا گیا۔ ایمس جودھپور میں سونم کی جانچ سینئر ڈاکٹرس کی ٹیم کی نگرانی میں کی گئی۔ ذرائع کے مطابق ان کے پیٹ سے متعلق مسائل کو دیکھتے ہوئے گیسٹرو اینٹیرولاجسٹ کی طرف سے خاص طور سے ٹیسٹ کیا گیا۔ ڈاکٹروں نے ضروری طبی جانچ کر ان کے حالات کا باریکی سے جائزہ لیا۔

Published: undefined

اس سے قبل سپریم کورٹ نے پینے کے آلودہ پانی کا استعمال کرنے سے سونم وانگچک کو ہوئی پیٹ کی تکلیف سے متعلق شکایت سنی۔ اس بارے میں جمعرات کو عدالت نے حکم دیا کہ ان کی طبی جانچ ماہر ڈاکٹروں کے ذریعہ کی جائے۔ جسٹس اروند کمار اور جسٹس پی بی ورالے کی بنچ نے جیل افسرا کو حکم دیا کہ سونم وانگچک کی میڈیکل رپورٹ پیر تک سیل بند لفافے میں دستیاب کرائی جائے۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور چھٹی شیڈیول میں شامل کرنے سے متعلق مطالبہ پر ہوئے پُرتشدد مظاہروں کے 2 دن بعد 26 ستمبر کو وانگچک کو سخت قومی سیکورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ اس مظاہرہ کے دوران مرکز کے زیر انتظام خطہ میں 4 لوگ ہلاک ہو گئے تھے اور 90 افراد زخمی ہوئے تھے۔ حکومت نے وانگچک پر تشدد بھڑکانے کا الزام عائد کیا ہے۔ تب سے وانگچک جودھپور سنٹرل جیل میں زیر حراست ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined