قومی خبریں

سانپ کا زہر معاملہ: یوٹیوبر ایلوش یادو کو سپریم کورٹ سے ملی راحت، ایف آئی آر رد کرنے کا حکم

این ڈی پی ایس سے جڑے معاملہ میں عدالت نے سینئر ایڈووکیٹ مکتا گپتا کی اس دلیل کو ریکارڈ کیا کہ ایک شریک ملزم سے برآمد کیا گیا مبینہ سائیکوٹراپک شئے این ڈی پی ایس ایکٹ کے دائرے میں نہیں آتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ / آئی اے این ایس</p></div>

سپریم کورٹ / آئی اے این ایس

 

مشہور یوٹیوبر ایلوش یادو کو سپریم کورٹ سے آج راحت بھری خبر ملی۔ عدالت نے ان کے خلاف ویڈیو شوٹ میں سانپ کا زہر استعمال کرنے اور ڈرگ استعمال والی ریو پارٹیوں میں شامل ہونے کے الزامات میں درج مجرمانہ کارروائی کو رد کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ محدود قانونی ایشوز کی بنیاد پر ایف آئی آر قانون کی نظر میں قابل قبول نہیں ہے۔

Published: undefined

جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ کی بنچ نے واضح کیا کہ وہ صرف 2 خاص سوالات پر غور کر رہے ہیں۔ یہ سوالات ہیں نارکوٹکس ڈرگ اینڈ سائیکوٹراپک سبسٹانسز ایکٹ 1985 کی دفعہ 2(23) کے اطلاق اور وائلڈ لائف (تحفظ) ایکٹ 1972 کی دفعہ 55 کے تحت کارروائی کے جواز کو لے کر۔

Published: undefined

این ڈی پی ایس سے جڑے معاملہ میں عدالت نے سینئر ایڈووکیٹ مکتا گپتا کی اس دلیل کو ریکارڈ کیا کہ ایک شریک ملزم سے برآمد کیا گیا مبینہ سائیکوٹراپک شئے (سانپ کے زہر کا اینٹی ڈوٹ) این ڈی پی ایس ایکٹ کے دائرے میں نہیں آتا ہے۔ بنچ نے اس بات پر غور کیا کہ جیسا کہ منظور کیا گیا ہے، زیر غور اشیا آئینی شیڈول کے تحت نہیں آتا تھا۔ عدالت نے اس دلیل پر بھی توجہ دی کہ ایلوش یادو سے خود کوئی برآمدگی نہیں ہوئی تھی اور چارج شیٹ میں صرف یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس نے ایک معاون کے ذریعہ آرڈر دیے تھے۔

Published: undefined

اس بات کو دھیان میں رکھتے ہوئے عدالت نے اخذ کیا کہ پیش کردہ ثبوتوں کی بنیاد پر این ڈی پی ایس ایکٹ کو نافذ کرنا قانونی طور پر درست نہیں تھا۔ وائلڈ لائف تحفظ ایکٹ سے جڑے دوسرے ایشو پر آتے ہوئے بنچ نے کہا کہ سیکشن 55 کے تحت یہ ضروری ہے کہ مقدمہ صرف کسی ایسے افسر کی شکایت پر ہی شروع کیا جا سکتا ہے، جسے اس کے لیے قانونی اختیار دیا گیا ہو۔ جس شکایت کی بنیاد پر یہ ایف آئی آر درج کی گئی تھی، وہ گورو گپتا نام کے ایک شخص نے داخل کی تھی، جو ’پیپل فار اینیملس‘ (پی ایف اے) نامی ایک مویشی فلاح تنظیم سے منسلک ہے۔

Published: undefined

عدالت عظمیٰ نے یہ مانا کہ ایف آئی آر اپنی موجودہ شکل میں غور کے قابل نہیں تھی، کیونکہ اسے کسی اہل اتھارٹی کے ذریعہ داخل نہیں کیا گیا تھا۔ عدالت نے شکایت دہندہ کی خیر سگالی پر بھی شبہ ظاہر کیا۔ عدالت نے یہ دلیل بھی درج کی کہ تعزیرات ہند کے تحت جرم علیحدہ طور سے نہیں بنتے تھے، کیونکہ وہ ایک پچھلی شکایت کا حصہ تھے جسے پہلے ہی بند کیا جا چکا تھا۔ اس نتیجہ پر پہنچتے ہوئے کہ ان قانونی بنیادوں پر ایف آئی آر جانچ میں کھری نہیں اتر سکتی، بنچ نے کارروائی کو منسوخ کرنے کا حکم دیا۔ حالانکہ اس نے یہ واضح کیا کہ اس نے بنیادی الزامات کی میرٹ کی بنیاد پر جانچ نہیں کی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined