قومی خبریں

ایس آئی آر: حذف ووٹرس کو جوڑنے کے لیے دہلی و مہاراشٹر سمیت 7 ریاستوں میں چلے گی خصوصی مہم، الیکشن کمیشن کی ہدایت

جن ریاستوں کے لیے از سر نو خصوصی مہم چلانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے ان میں دہلی، ہریانہ، مہاراشٹر، ناگالینڈ، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور جھارکھنڈ شامل ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر / آئی اے این ایس</p></div>

تصویر / آئی اے این ایس

 

ایک طرف اپوزیشن پارٹیاں ایس آئی آر اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف زوردار مہم چلا رہی ہیں، دوسری طرف الیکشن کمیشن مستقل نئے فیصلے لے رہا ہے تاکہ اس پر لگ رہے الزامات بند ہوں۔ خاص طور سے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کے سخت بیانات نے کئی محاذ پر الیکشن کمیشن کو یو-ٹرن لینے پر مجبور کیا، اور کچھ میڈیا رپورٹس نے بھی چیف الیکشن کمشنر کو دباؤ میں ڈالا ہے۔ تازہ ترین خبر یہ ہے کہ جن ریاستوں میں ابھی ایس آئی آر چل رہا ہے، وہاں ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے حذف ووٹرز کو تلاش کرنے کے لیے از سر نو خصوصی مہم چلائی جائے گی۔ یہ ہدایت الیکشن کمیشن کے ذریعہ دی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جن ریاستوں کے لیے ہدایات جاری کی گئی ہیں، ان میں دہلی، ہریانہ، مہاراشٹر، ناگالینڈ، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور جھارکھنڈ شامل ہیں۔ اس مہم کے تحت جن ووٹرز کا نام فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے، بی ایل او ایک بار پھر ان کے گھر جا کر جانچ کریں گے کہ کیا وہ واقعی اسی پتے پر موجود ہیں، یا نہیں۔ اس کے ساتھ ہی الیکشن کمیشن نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ جن ووٹرز کے نام حذف ہوئے ہیں، ان کی فہرست متعلقہ پولنگ بوتھوں پر لگائی جائے تاکہ ووٹرز اپنا نام دیکھ کر اسے دوبارہ جڑوا سکیں۔ اس کے لیے الیکشن کمیشن نے ایک فارم بھی جاری کیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق یہ نرمی ان ووٹرز کو دی جائے گی، جنھیں نیومریشن فارم تو جاری کیے گئے تھے، لیکن جانچ کے دوران انھیں غیر حاضر، منتقل شدہ، مردہ یا ڈپلی کیٹ زمرہ میں رکھ کر ڈرافٹ رول سے باہر کر دیا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے افسران کو سخت نگرانی بنائے رکھنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ اس کا اہم مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کسی بھی فرضی یا ڈپلی کیٹ نام کو ووٹر لسٹ میں جڑنے سے روکا جا سکے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق اب تک بہار اور مغربی بنگال سمیت 20 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں میں ایس آئی آر کا عمل پورا ہو چکا ہے۔ ووٹر لسٹ کے مستقل اپڈیٹ کرنے کا عمل جاری ہے اور اس کے تحت چھوٹے ہوئے ووٹرز کے نام شامل کیے جا سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے سبھی چیف الیکٹورل افسران (سی ای او) کو اس عمل میں سہولت دستیاب کرانے کی ہدایت دی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔