
شرد پوار (فائل) / تصویر: قومی آواز
ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے بانی شرد پوار راجیہ سبھا کے لیے بلا مقابلہ منتخب ہو گئے ہیں, انہیں اپوزیشن اتحاد مہا وکاس اگھاڑی کی جانب سے امیدوار بنایا گیا تھا۔ سات نشستوں کے لیے سات امیدوار میدان میں ہونے کی وجہ سے انتخابی مقابلے کی ضرورت نہیں پڑی اور تمام امیدواروں کے بلا مقابلہ منتخب ہونے کی راہ ہموار ہو گئی۔
شرد پوار کی صحت ناساز ہونے کے باعث وہ نامزدگی داخل کرنے کے لیے انتخابی افسر کے دفتر نہیں پہنچ سکے۔ ایسی صورت حال میں ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے انتخابی افسر خود ان کی رہائش گاہ پہنچے اور وہیں نامزدگی سے متعلق تمام رسمی کارروائیاں مکمل کرائی گئیں۔
Published: undefined
بتایا جاتا ہے کہ مہاراشٹر میں راجیہ سبھا انتخابات کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب کسی امیدوار کے گھر جا کر انتخابی افسر نے نامزدگی کا عمل مکمل کیا ہو۔ اس موقع پر مہا وکاس اگھاڑی کے کئی اہم رہنما بھی موجود تھے، جن میں جینت پاٹل، سپریا سولے، سنجے راؤت اور ہرش وردھن سپکال شامل تھے۔ نامزدگی کے عمل کے دوران جے جے اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ بھی موجود رہے اور ضروری کارروائیوں کی تکمیل کی گئی۔
بعد ازاں شرد پوار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے اپنے طویل سیاسی سفر کا ذکر کیا اور مہاراشٹر کے عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے لکھا کہ عوامی نمائندے کے طور پر ان کا سفر 1967 میں شروع ہوا تھا اور تب سے مسلسل جاری ہے۔ ان کے مطابق یہ سفر صرف ان کا ذاتی سیاسی کریئر نہیں بلکہ مہاراشٹر کے عوام کے اعتماد اور حمایت کی علامت ہے، جنہوں نے انہیں بار بار خدمت کا موقع فراہم کیا۔
Published: undefined
اسی دوران راجیہ سبھا انتخابات کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں نے بھی اپنے امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے ونود تاوڑے، رام داس اٹھاولے، مایا ایویناٹے اور رام راؤ ودکُٹے نے نامزدگی داخل کی ہے۔ شیو سینا نے جیوتی واگھمارے کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔
نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی جانب سے پارتھ پوار نے بھی نامزدگی داخل کی، جس موقع پر مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور نائب وزیر اعلیٰ سنیترا پوار موجود تھیں۔ اطلاعات کے مطابق دو آزاد امیدواروں نے بھی پرچہ نامزدگی داخل کیا تھا، تاہم بتایا جا رہا ہے کہ ضروری تعداد میں اراکین اسمبلی کے دستخط نہ ہونے کی وجہ سے ان کے کاغذات کی جانچ کے دوران مسترد ہونے کا امکان ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined