قومی خبریں

شنکراچاریہ اوی مکتیشورانند کے کیمپ پر حملے کا الزام!

شنکراچاریہ کے میڈیا انچارج نے ایک پریس نوٹ جاری کرکے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ واقعہ کے حوالے سے پولیس میں شکایت درج کرائی گئی ہے۔ خطرے کا حوالہ دیتے ہوئے سیکورٹی مانگی گئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

اتر پردیش کے پریاگ راج میں سنیچر کی دیر شام اس وقت ہنگامہ برپا ہو گیا جب لاٹھیوں اور سلاخوں سے لیس کچھ شر پسند عناصر نے  شنکراچاریہ ایوی مکتیشورانند کے پاس پہنچے کی کوشش کی، جو سنگم کے کنارے احتجاجی دھرنے پر بیٹھے ہوئے تھے ۔ حامیوں نے یہ الزام لگایا  کہ ان شر پسند عناصر نے شنکراچاریہ کے قریب جانے کی کوشش کی ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ عقیدت مندوں کی مداخلت سے ان کے ارادے ناکام ہو گئے۔ مزید برآں، وہ نعرے لگا رہے تھے جیسے "مجھے بلڈوزر بابا سے پیار ہے"۔ اس واقعہ سے شنکراچاریہ اور ان کے حامیوں میں غصہ پھیل گیا ہے۔

Published: undefined

شنکراچاریہ کے میڈیا انچارج نے ایک پریس نوٹ جاری کرکے اس واقعہ پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ واقعہ کے حوالے سے پولیس میں شکایت درج کرائی گئی ہے۔ شنکراچاریہ نے خود کیمپ کی املاک اور آشرم کے سادھوؤں کو خطرہ بتاتے ہوئے سیکورٹی کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم پولیس حکام نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

Published: undefined

پولیس اسٹیشن میں سربراہ شنکراچاریہ  اوی مکتیشورانند سرسوتی کی طرف سے درج کرائی گئی شکایت کے مطابق، لاٹھیوں اور بھگوا جھنڈوں سے لیس کچھ نوجوانوں نے شام 6:30 اور 7 بجے کے درمیان کیمپ میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی، لیکن عقیدت مندوں کی موجودگی کی وجہ سے وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے گروپ پر حملہ کرنے کی کوشش بھی کی جس سے اچانک خوف و ہراس پھیل گیا۔

Published: undefined

شنکراچاریہ اوی مکتیشور انندسرسوتی نے اس واقعے پر اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنے اور کیمپ میں مقیم عقیدت مندوں کے لیے خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کیمپ میں سیکورٹی بڑھانے پر زور دیا۔ مزید برآں، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی حادثہ پیش آیا تو پولیس اور انتظامیہ ذمہ دار ہوگی۔واضح رہے کہ 18 جنوری کو مونی اماواسیہ پر اسنان (نہانے )کا تنازعہ شروع ہونے کے بعد سے شنکراچاریہ مسلسل ساتویں دن بھی اپنے کیمپ کے باہر بیٹھے ہیں۔ اس واقعہ نے تنازعہ کو مزید بڑھا دیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined