قومی خبریں

مودی حکومت میں شرمناک تاریخ رقم! 6 سال میں 90 لاکھ ملازمتوں پر قدغن

عظیم پریم جی یونیورسٹی کے سنٹر آف سسٹنیبل امپلائمنٹ کی جانب سے شائع ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ 6 سال میں 90 لاکھ ملازمتیں گھٹ گئی ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

ہندوستان میں بے روزگاری لگاتار بڑھتی ہی جا رہی ہے اور اس کے لیے مودی حکومت کو تنقید کا سامنا بھی لگاتار کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک تازہ رپورٹ نے مودی حکومت کے لیے مزید پریشانی کھڑی کر دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملازمت ختم ہونے کی شرح گزشتہ 6 سالوں میں جو درج کی گئی ہے وہ آزاد ہندوستان میں اب تک کی سب سے زیادہ ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں چھ سال کے اندر روزگار میں 90 لاکھ کی گراوٹ آئی ہے۔ یہ رپورٹ عظیم پریم جی یونیورسٹی کے سنٹر آف سسٹنیبل امپلائمنٹ کی طرف سے شائع کی گئی ہے۔

Published: 01 Nov 2019, 3:10 PM IST

اس تازہ رپورٹ میں واضح لفظوں میں لکھا گیا ہے کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے جب روزگار میں اس طرح کی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ اعداد و شمار سال 12-2011 اور 18-2017 کے درمیان کے ہیں۔ اگر دوسری طرح سے دیکھیں تو 12-2011 اور 18-2017 کے درمیان ہر سال تقریباً 26 لاکھ لوگوں کی ملازمتیں ختم ہو گئی ہیں۔

Published: 01 Nov 2019, 3:10 PM IST

سنتوش مہروترا اور جے کے پیرزادہ نے سنٹر آف سسٹنیبل امپلائمنٹ کے لیے اس رپورٹ کو تیار کی اہے جس میں دونوں نے لکھا ہے کہ 12-2011 سے 18-2017 کے درمیان کل روزگار میں 90 لاکھ کی کمی آئی ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ سنتوش مہروترا جے این یو میں شعبۂ اقتصادیات کے پروفیسر ہیں جب کہ جے کے پیرزادہ پنجاب یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔

Published: 01 Nov 2019, 3:10 PM IST

واضح رہے کہ کچھ دنوں پہلے سی ایم آئی ای کا سروےآیا تھا جس میں حالات کچھ الگ ہی نظر آ رہے تھے۔ سی ایم آئی ای کے سروے میں بتایا گیا تھا کہ سال مئی سے اگست کے درمیان تقریباً 40 کروڑ 49 لاکھ لوگوں کے پاس ملازمت تھی جب کہ گزشتہ سال اسی دوران 40 کروڑ 24 لاکھ لوگوں کے پاس ملازمت تھی۔ یعنی سی ایم آئی نے پچھلے سال کے مقابلے اس سال ملازمتوں کی صورت حال بہتر بتائی تھی۔ ساتھ ہی اس نے یہ ضرور واضح کیا تھا کہ ملازمتیں بڑھنے کا معاملہ زراعت کے شعبہ میں سامنے آیا ہے۔

Published: 01 Nov 2019, 3:10 PM IST

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 01 Nov 2019, 3:10 PM IST