
ایس جی پی سی کے رکن اور سینئر وکیل بھگونت سنگھ سیالکا / آئی اے این ایس
چنڈی گڑھ: روہتک کی سناریا جیل میں سزا کاٹ رہے ڈیرہ سچا سودا سربراہ گرمیت رام رحیم کو ایک بار پھر 30 دن کی پیرول ملنے پر شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) نے سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ تنظیم نے ہریانہ حکومت اور مرکزی حکومت پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے اس فیصلے پر سنگین سوال کھڑے کیے ہیں۔
ایس جی پی سی کے رکن اور سینئر وکیل بھگونت سنگھ سیالکا نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ دو سادھویوں کے ساتھ عصمت دری کے معاملے میں سزا یافتہ گرمیت رام رحیم کو گزشتہ نو برسوں میں متعدد بار جیل سے باہر آنے کی اجازت دی جا چکی ہے، جس سے حکومتوں کی نیت پر سوال پیدا ہوتے ہیں۔
Published: undefined
انہوں نے کہا کہ ایسے شخص کو بار بار راحت دی جانا، جس کا نام سری گرو گرنتھ صاحب کی بے ادبی سے متعلق معاملات میں بھی سامنے آ چکا ہو، سکھ برادری کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔ بھگونت سنگھ سیالکا نے دعویٰ کیا کہ ڈیرہ سچا سودا سے وابستہ کئی افراد کے نام بھی بے ادبی کے معاملات میں سامنے آئے تھے لیکن اس کے باوجود حکومت کی جانب سے خصوصی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مختلف سیاسی جماعتوں نے ماضی میں شرومنی اکالی دل کے خلاف ماحول بنایا لیکن اب وہی جماعتیں رام رحیم کے معاملے میں نرم رویہ اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ رام رحیم سے متعلق مقدمات کو فریدکوٹ سے چنڈی گڑھ منتقل کیا جانا ایک منصوبہ بند حکمت عملی کا حصہ تھا۔ ان کے مطابق معاملے میں قانونی ضابطوں میں تبدیلیاں کی گئیں اور عام قیدیوں پر لاگو ہونے والے اصولوں کو اس معاملے میں یکساں طور پر نافذ نہیں کیا گیا۔
Published: undefined
ایس جی پی سی رکن نے ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ منوہر لال پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ سکھ اداروں سے متعلق معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے الگ ہریانہ گردوارہ پربندھک کمیٹی قائم کی گئی، جبکہ پہلے ایس جی پی سی ہریانہ کے گردواروں، تعلیمی اداروں اور دیگر سرگرمیوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرتی تھی۔
بھگونت سنگھ سیالکا نے یہ بھی کہا کہ ملک میں انتخابی سرگرمیوں کے دوران رام رحیم کو پیرول ملنے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جس سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوششوں کا شبہ پیدا ہوتا ہے۔
Published: undefined
انہوں نے حکومتوں کے رویے کو دوہرے معیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ایسے افراد بھی رہائی کے منتظر ہیں جو اپنی سزا مکمل کر چکے ہیں، جبکہ دوسری طرف سنگین جرائم میں سزا یافتہ افراد کو مسلسل پیرول دی جا رہی ہے۔
انہوں نے بلونت سنگھ راجوآنا کی رہائی کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ ایس جی پی سی مسلسل ان کے حق میں آواز بلند کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات بھی ہو چکی ہے لیکن اب تک کوئی واضح فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined