
ترون تیج پال، تصویر سوشل میڈیا
2013 کے مشہور جنسی استحصال معاملہ میں ’تہلکہ‘ کےس ابق مدیر ترون تیج پال کو 10 سال جیل کی سزا سنائی گئی ہے۔ بامبے ہائی کورٹ نے ذیلی عدالت کے ذریعہ انھیں بری کیے جانے کے فیصلہ کو آج صبح منسوخ کر دیا تھا۔ ہائی کورٹ نے تیج پال کو عصمت دری اور خاتون کے جنسی استحصال کا قصوروار ٹھہراتے ہوئے سیشن کورٹ کے فیصلہ کو پلٹنے کا حکم صادر کیا۔ پھر دوپہر بعد بامبے ہائی کورٹ نے ترون تیج پال کو 10 سال کی سزا سنانے کا اعلان کر دیا۔
اس فیصلہ پر ترون تیج پال نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم یقیناً سپریم کورٹ جائیں گے۔ وہ سیاسی بدلہ کے جذبہ اور ’تہلکہ‘ کے کام کی وجہ سے میرے پیچھے پڑے ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ہم نے ٹرائل کورٹ میں 7.5 سال تک کیس لڑا اور بری ہو گئے۔ جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ بری ہو جاتے ہیں، لیکن وہ ایسے لوگوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں جنھوں نے ان کے خلاف لکھا۔‘‘ انھوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’عمر خالد اور شرجیل امام کئی سالوں سے جیل میں ہیں۔ ’تہلکہ‘ کی رپورٹنگ سے شاید انھیں (مخالفین کو) کچھ سیاسی نقصان ہوا ہو یا ان کے ذاتی مفادات کو چوٹ پہنچی ہو۔ وہ گزشتہ 13 سالوں سے بدلے کا جذبہ لے کر میرے پیچھے پڑے ہیں۔ مجھے عدلیہ پر پورا بھروسہ ہے، ایسے جج ضرور ہوں گے جو سچ دیکھیں گے۔ ہم ثبوت سب کے سامنے رکھیں گے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ آج صبح جسٹس نیلا گوکھلے اور جسٹس امت جمسنڈیکر پر مشتمل ڈویژنل بنچ نے ترون تیج پال کو بری کیے جانے سے متعلق ماپوسا کی سیشن عدالت کے اس فیصلہ کو کالعدم قرار دے دیا، جس میں ترون تیج پال کو نومبر 2013 میں ان کی ایک جونیئر خاتون ساتھی کی جانب سے درج کرائے گئے عصمت دری کے مقدمہ میں بری کر دیا گیا تھا۔ جب یہ فیصلہ سنایا گیا تو ترون تیج پال عدالت میں موجود تھے۔ بنچ نے انہیں تعزیرات ہند کی دفعات (F)(2)376 اور (K)(2)376 اور 354 اے اور 354 بی کے تحت عصمت دری اور جنسی ہراسانی کے جرائم کا مجرم ٹھہرایا۔
فیصلہ سنائے جانے کے بعد سینئر وکیل آباد پونڈا نے بنچ سے درخواست کی کہ سزا سناتے وقت ان کے مؤکل کے ساتھ نرمی برتی جائے، کیونکہ مبینہ جرم کو کم از کم 13 سال گزر چکے ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے سزا سے متعلق فیصلے پر کم از کم 8 ہفتوں کی روک لگانے کی بھی درخواست کی، یہ کہتے ہوئے کہ یہ بری کیے جانے کے فیصلے کو پلٹنے کا معاملہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ترون تیج پال کے خلاف اس کے علاوہ کوئی اور مقدمہ یا ایف آئی آر درج نہیں ہے۔
فیصلہ سنائے جانے کے وقت ترون تیج پال عدالت میں موجود تھے، کیونکہ بنچ نے فیصلہ محفوظ کرتے وقت انہیں حکم دیا تھا کہ وہ فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر عدالت میں حاضر رہیں۔ اس موقع پر ترون تیج پال نے بھی بنچ سے خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’میری عمر 62 سال ہے، اور میرا ماننا ہے کہ میں بھی ایک متاثرہ شخص ہوں۔ میری ایک بیوی ہے، اور اس سے زیادہ کہنے کو کچھ نہیں۔ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ہم اپیل کر سکتے ہیں۔ براہ کرم میرے ساتھ نرمی برتیں۔ باقی تمام حقائق عدالتی ریکارڈ پر موجود ہیں۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
تصویر بشکریہ مدرسہ تجوید القرآن