قومی خبریں

ایس بی آئی ڈیٹا لیک: بینک نے گاہکوں کو کرائی رقم محفوظ ہونے کی یقین دہانی، احتیاط برتنے کا مشورہ

ایس بی آئی نے ڈارک ویب پر ڈیٹا لیک سے متاثرہ صارفین کو ای میل اور واٹس ایپ کے ذریعے مطلع کیا ہے۔ بینک نے رقم محفوظ ہونے کی یقین دہانی کراتے ہوئے او ٹی پی، پن اور پاس ورڈ شیئر نہ کرنے کی ہدایت دی

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>

تصویر اے آئی

 

نئی دہلی: اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) نے حالیہ سائبر واقعے کے بعد اپنے صارفین کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈارک ویب پر جن صارفین کی معلومات سامنے آئی ہیں، ان کے بینک کھاتوں میں موجود رقم اور فنڈز محفوظ ہیں۔ بینک نے تصدیق کی ہے کہ متاثرہ صارفین کو ای میل اور واٹس ایپ کے ذریعے انفرادی طور پر مطلع کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی صارفین کو ڈیجیٹل بینکنگ کے دوران احتیاط برتنے اور اپنی حساس معلومات کسی کے ساتھ شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

ایس بی آئی نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک تازہ بیان میں کہا کہ حالیہ سائبر واقعے سے متعلق پہلے دی گئی اطلاع کے سلسلے میں بینک نے ان تمام صارفین کو انفرادی طور پر مطلع کر دیا ہے، جن کا ڈیٹا متاثر ہونے کی نشان دہی کی گئی تھی۔ بینک کے مطابق، ان صارفین کو ای میل اور واٹس ایپ کے ذریعے معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

بینک نے اپنے بیان میں کہا، ’’ہم ایک بار پھر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ آپ کے کھاتے میں موجود بیلنس اور فنڈز ہمارے پاس محفوظ ہیں۔‘‘ اس بیان کا مقصد صارفین کو ان کے مالی وسائل کی سلامتی کے بارے میں یقین دلانا ہے، تاہم ڈیٹا لیک کے واقعے نے صارفین کی ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق خدشات کو بھی نمایاں کیا ہے۔

اس سے قبل ایس بی آئی کے ہزاروں صارفین کا ڈیٹا ڈارک ویب پر لیک ہونے کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ رپورٹوں کے مطابق، بینک کے ڈیٹا سے متعلق جانچ میں 3897 صارفین کے ریکارڈ میں ذاتی طور پر شناخت کی جا سکنے والی معلومات (پرسنلی آئیڈینٹیفائی ایبل انفارمیشن یا پی آئی آئی) پائی گئی تھیں۔

پی آئی آئی میں ایسی معلومات شامل ہوتی ہیں جن کی مدد سے کسی شخص کی شناخت کی جا سکتی ہے۔ ان میں نام، موبائل نمبر، ای میل ایڈریس، رہائشی پتہ، آدھار نمبر اور بینک کا کسٹمر انفارمیشن فائل (سی آئی ایف) نمبر جیسی تفصیلات شامل ہو سکتی ہیں۔ ایسی معلومات غیر مجاز افراد کے ہاتھ لگنے کی صورت میں ان کے غلط استعمال، جعل سازی یا صارفین کو نشانہ بنا کر سائبر دھوکہ دہی کی کوششوں کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

ایس بی آئی نے صارفین کو ڈیجیٹل بینکنگ کے محفوظ طریقے اپنانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنا او ٹی پی، پن یا پاس ورڈ کسی بھی شخص کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ بینک نے مشتبہ فون کالز، پیغامات اور ای میلز کے معاملے میں بھی چوکس رہنے کی ہدایت دی ہے۔

سائبر جرائم پیشہ افراد اکثر بینک یا کسی سرکاری ادارے کا نمائندہ بن کر صارفین سے رابطہ کرتے ہیں اور ان کی ذاتی یا مالی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے صارفین کو چاہیے کہ وہ کسی نامعلوم شخص کے ساتھ خفیہ معلومات شیئر نہ کریں اور مشتبہ لنکس پر کلک کرنے سے گریز کریں۔

بینک کی جانب سے متاثرہ صارفین کو انفرادی طور پر اطلاع دینے کا مقصد انہیں ممکنہ خطرات سے آگاہ کرنا ہے۔ صارفین کو چاہیے کہ وہ اپنے بینک کھاتوں پر نظر رکھیں اور کسی بھی غیر معمولی لین دین یا مشتبہ سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر بینک سے رابطہ کریں۔ ایس بی آئی نے اپنے بیان میں کھاتوں میں موجود رقم اور فنڈز کے محفوظ ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے، تاہم صارفین کے لیے اپنی ذاتی معلومات کے تحفظ اور ڈیجیٹل بینکنگ میں احتیاط برتنا بدستور ضروری ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔