قومی خبریں

سعودی عرب نے خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے درمیان بند کی ’ایسٹ-ویسٹ‘ آئل پائپ لائن، ہرمز کا کہا جاتا ہے متبادل

سعودی وزارت توانائی نے کہا کہ پائپ لائن کو سیکورٹی کے پیش نظر عارضی طور پر بند کیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق حملے میں راستے کے کئی پمپنگ اسٹیشنوں کو نقصان پہنچا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

سعودی عرب نے ڈرون حملے کے بعد اپنی ایسٹ-ویسٹ آئل پائپ لائن کو احتیاطی طور پر بند کر دیا ہے۔ یہ پائپ لائن ملک کے مشرقی تیل پیدا کرنے والے علاقوں سے خام تیل بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع تک پہنچاتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس کے ذریعے سعودی عرب آبنائے ہرمز سے بچ کر دنیا کے بازاروں تک تیل پہنچاتا ہے۔ جمعرات کے روز کئی ڈرون نے پائپ لائن کو نشانہ بنایا۔ سعودی وزارت توانائی نے کہا کہ پائپ لائن کو سیکورٹی کے پیش نظر عارضی طور پر بند کیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق حملے میں راستے کے کئی پمپنگ اسٹیشنوں کو نقصان پہنچا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر میں ایک اسٹیشن پر آگ سے نقصان اور دوسری جگہ سے دھواں اٹھتا ہوا نظر آیا۔

سعودی وزارت خارجہ نے بتایا کہ ڈرون عراق سے آئے تھے اور حملے میں کچھ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ کچھ نقصان بھی ہوا ہے، جس کی مرمت کی جا رہی ہے۔ سعودی عرب نے کہا کہ عراقی وزیر اعظم کی درخواست پر وہ فی الحال جوابی حملہ نہیں کرے گا، تاکہ عراقی حکومت کو اپنی سرزمین سے ہونے والے حملوں کو روکنے کا موقع مل سکے۔ عراق نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ایرانی حملوں کی وجہ سے آبنائے ہرمز سے تیل کی آمد و رفت تقریباً بند ہے۔ ایسے وقت میں ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن سعودی عرب کے لیے انتہائی اہم ہو گئی ہے۔ جون کے آغاز تک اس پائپ لائن کے ذریعے ینبع تک تیل بھیجنے کی مقدار بڑھ کر روزانہ 50 لاکھ بیرل سے زیادہ ہو گئی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پمپنگ اسٹیشنوں کی مرمت پائپ لائن کو ٹھیک کرنے کے مقابلے میں آسان ہو سکتی ہے، لیکن نقصانات کی مکمل اطلاع نہیں ہے۔ اسی درمیان سعودی عرب نے اوپیک کو بتایا کہ اس کی خام تیل کی پیداوار گزشتہ ماہ 1990 کے بعد سب سے نچلی سطح پر پہنچ گئی۔ دوسری طرف یمن کے حوثی جنگجوؤں نے مایون جزیرے (پیریم جزیرے) پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ چھوٹا آتش فشانی جزیرہ آبنائے  باب المندب کے درمیان واقع ہے، جو دنیا کے اہم سمندری راستوں میں شامل ہے۔ حوثیوں نے جمعرات کے روز تقریباً 80 کلومیٹر دور واقع موخا شہر پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔ باب المندب سے جہازوں کی آمدورفت پہلے ہی 2023 کے آخر سے حوثی حملوں کے بعد تقریباً 60 فیصد کم ہو چکی ہے۔ اب اس راستے پر خطرہ بڑھنے سے سعودی عرب کو تیل کی سپلائی کے لیے طویل راستہ اختیار کرنا پڑ سکتا ہے۔

ان واقعات کے درمیان خام تیل کی قیمت اس ہفتے ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس سے ایران کو مستقبل میں ہونے والی بات چیت میں اضافی دباؤ بنانے کی طاقت مل سکتی ہے۔ ایران نے حوثیوں کی کھلے عام حمایت کی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے سعودی عرب سے حوثیوں کے زیر انتظام علاقوں کی ناکہ بندی ختم کرنے اور بات چیت شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔ ایرانی ریوولوشنری گارڈ کے ایک ترجمان نے یہاں تک کہا کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں یمن کو شامل کرنا ہوگا۔ سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اسے دفاع کا حق بھی حاصل ہے۔ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان جمعرات کے روز کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر بات چیت کرنے کی اطلاع ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔