
افسرہ خاتون، ٹیچر و ایس ایس اے فنڈ انچارج / تصویر: محمد تسلیم
نئی دہلی: دارالحکومت کے اولڈ سیما پوری علاقے میں سَمَگر شکشا ابھیان کے تحت جاری تعلیمی سرگرمیوں نے بچوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی پیدا کر دی ہے، جہاں اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ بچے اسکول جا رہے ہیں اور اپنی تعلیم مکمل کر رہے ہیں۔ اس اسکیم نے نہ صرف تعلیمی معیار کو بہتر بنایا ہے بلکہ اسکولوں کے ماحول اور بنیادی سہولیات میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔
ایم سی ڈی پرائمری اسکول، اولڈ سیما پوری کی ٹیچر اور ایس ایس اے فنڈ انچارج افسرہ خاتون نے بتایا کہ یہ اسکیم علاقے کے بچوں کے لیے ایک نئی امید بن کر سامنے آئی ہے۔ ان کے مطابق، ’’ہم روزانہ دیکھ رہے ہیں کہ بچے زیادہ دلچسپی کے ساتھ اسکول آ رہے ہیں اور اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ تبدیلی سَمَگر شکشا ابھیان کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔‘‘
Published: undefined
انہوں نے بتایا کہ اس اسکیم کا بنیادی مقصد اسکولوں کو بہتر بنانا، اساتذہ کی تربیت کرنا اور خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینا ہے۔ اسی مقصد کے تحت اسکول میں نئے کلاس رومز تعمیر کیے گئے ہیں، تعلیمی وسائل فراہم کیے گئے ہیں اور لائبریری و کمپیوٹر لیب قائم کی گئی ہے تاکہ بچوں کو جدید تعلیم سے جوڑا جا سکے۔
افسرہ خاتون کے مطابق اساتذہ کی تربیت اس اسکیم کا ایک اہم حصہ ہے، جس کے تحت انہیں جدید تدریسی طریقے سکھائے جاتے ہیں اور کمپیوٹر کے استعمال کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ اس سے نہ صرف تدریس کا معیار بہتر ہوا ہے بلکہ بچوں کی سیکھنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
Published: undefined
انہوں نے مزید بتایا کہ اسکول میں بچوں کو دوپہر کا کھانا، صاف پانی اور صفائی کی بہتر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جو انہیں باقاعدگی سے اسکول آنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان سہولیات کی وجہ سے والدین کا اعتماد بھی بڑھا ہے اور وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کے لیے زیادہ سنجیدہ ہوئے ہیں۔
اولڈ سیما پوری کے زیادہ تر بچے غریب اور مہاجر خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں، جہاں تعلیم تک رسائی ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ تاہم، سَمَگر شکشا ابھیان نے اس خلا کو کافی حد تک پُر کیا ہے۔ اب بچوں کو نہ صرف تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل رہا ہے بلکہ انہیں ایک محفوظ اور سازگار ماحول بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
افسرہ خاتون نے کہا کہ بڑی جماعتوں کے طلبہ کو ہنر مندی کی تربیت بھی دی جا رہی ہے تاکہ وہ مستقبل میں روزگار حاصل کرنے کے قابل ہو سکیں۔ اس کے علاوہ اسکول میں حفاظتی دیوار، کھیل کا میدان اور اساتذہ کے لیے علیحدہ کمرے بھی تعمیر کیے گئے ہیں، جس سے تعلیمی ماحول مزید بہتر ہوا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ اسکیم صرف اسکول تک محدود نہیں بلکہ ایسے بچوں تک بھی پہنچ رہی ہے جو کبھی اسکول نہیں گئے یا تعلیم چھوڑ چکے ہیں۔ اس مقصد کے لیے سوشل ٹریننگ سینٹرز قائم کیے گئے ہیں جہاں ان بچوں کو مفت تعلیم، بنیادی مہارتیں اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔
Published: undefined
افسرہ خاتون کے مطابق اب ہر روز زیادہ بچے اسکول کا رخ کر رہے ہیں اور اپنی تعلیم مکمل کرنے کی طرف گامزن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر مناسب سہولیات اور رہنمائی فراہم کی جائے تو ہر بچہ تعلیم حاصل کر سکتا ہے۔ مستقبل میں بھی اسی جذبے کے ساتھ کام جاری رکھا جائے گا تاکہ ہر بچے تک معیاری تعلیم پہنچائی جا سکے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined