قومی خبریں

سلمان خان کو پان مسالہ اشتہار معاملے میں راحت، ضمانتی وارنٹ پر راجستھان ہائی کورٹ نے لگائی روک

اب سلمان خان کو 13 اپریل کوکمیشن کے سامنے پیش ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ تاریخ پہلے ’آخری موقع‘ مقرر کی گئی تھی اور اگر وہ پیش نہیں ہوتے تو ان کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کی بات کہی گئی تھی۔

<div class="paragraphs"><p>سلمان خان /&nbsp; تصویر: آئی اے این ایس</p></div>

سلمان خان /  تصویر: آئی اے این ایس

 

بالی ووڈ اداکار سلمان خان کو پان مسالہ اشتہار معاملے میں راجستھان ہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ ہائی کورٹ نے جے پور ڈسٹرکٹ کنزیومر کمیشن۔ II کے ذریعہ ان کے خلاف جاری کردہ قابل ضمانت وارنٹ پر روک لگا دی ہے۔ اس کے بعد اب بالی ووڈ اداکار کو 13 اپریل کو کورٹ میں پیش ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ جسٹس انوپ سنگھی کی سربراہی والی بنچ نے سلمان خان اور دیگر لوگوں کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کے بعد یہ حکم جاری کیا۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد اب سلمان خان کو 13 اپریل کو کنزیومر کمیشن کے سامنے پیش ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ تاریخ پہلے ’آخری موقع‘ مقرر کی گئی تھی اور اگر وہ پیش نہیں ہوئے تو ان کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کی بات کہی گئی تھی۔

Published: undefined

یہ مقدمہ یوگیندر سنگھ بدیال کی طرف سے دائر شکایت سے متعلق ہے۔ شکایت کنندہ نے راج شری پان مسالہ اور اس کے برانڈ ایمبیسیڈر سلمان خان پر گمراہ کن اشتہارات چلانے کا الزام لگایا ہے۔ ان مصنوعات کی تشہیر ’زعفران انفیوزڈ الائچی‘ اور ’زعفران انفیوزڈ پان مسالہ‘ کے طور پر کی گئی تھی۔6  جنوری 2026 کو کنزیومر کمیشن نے ان مصنوعات کی تشہیر پر عبوری پابندی عائد کردی تھی لیکن 9 جنوری کو بھی جے پور اور کوٹا سمیت کئی شہروں میں ہورڈنگز لگے نظر آئے جس کو کمیشن نے اپنے حکم کی خلاف ورزی مانا۔

Published: undefined

اس دوران کمیشن نے کہا کہ مشہور شخصیت ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی قانون سے بالاتر ہوجائے۔ کمیشن نے یہ بھی کہا کہ وارنٹ جاری ہونے کے باوجود بار بار پیش نہ ہونا نظام انصاف پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔ کمیشن نے سلمان خان کے خلاف 4 بار قابل ضمانت وارنٹ جاری کیے لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ حالیہ سماعت میں کمیشن نے برہمی کا اظہار کیا اور سخت کارروائی کی وارننگ دی تھی۔ کمیشن نے کہا تھا کہ مشہور شخصیت ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی قانون سے اوپر ہوجائے۔ سلمان خان کی جانب سے سینئر وکیل آر پی سنگھ، جی ایس بافنا، دیویش شرما، ورون سنگھ، اور شیوانگشو نیول نے عدالت میں دلائل پیش کیے۔

Published: undefined