
سپریم کورٹ آف انڈیا
نئی دہلی: دہلی کے ساکیت علاقے میں عمارت گرنے کے معاملے میں سپریم کورٹ میں داخل اسٹیٹس رپورٹ میں دہلی میونسپل کارپوریشن کی لاپروائی اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنے پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ امیکس کیوری نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ متعلقہ اداروں کی مسلسل غفلت کے باعث یہ المناک حادثہ پیش آیا، جس میں 6 افراد کی جان چلی گئی۔
Published: undefined
رپورٹ میں سپریم کورٹ سے درخواست کی گئی ہے کہ دہلی بھر میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائی کے احکامات جاری کیے جائیں اور ان عمارتوں کا بھی جائزہ لیا جائے جو حفاظتی معیارات پر پوری نہیں اترتیں۔ امیکس کیوری نے مؤقف اختیار کیا کہ ساکیت میں جس عمارت کے منہدم ہونے سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، وہ برسوں تک ضابطوں کی خلاف ورزی کے باوجود قائم رہی، جو متعلقہ اداروں کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
اسٹیٹس رپورٹ میں عدالت سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ دہلی کی دیگر عمارتوں کا ساختی آڈٹ کرایا جائے اور دہلی میونسپل کارپوریشن سے جواب طلب کیا جائے کہ مذکورہ عمارت کی تعمیر اور استعمال کے دوران قانون کی خلاف ورزیوں پر کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ رپورٹ میں ذمہ دار افسران کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
Published: undefined
مزید کہا گیا ہے کہ حادثے میں جان گنوانے والوں کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دیا جائے اور اس سلسلے میں کی جانے والی کارروائی کی مکمل تفصیلات عدالت کے سامنے پیش کی جائیں۔ امیکس کیوری کے مطابق عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے صرف حادثے کے بعد کارروائی کافی نہیں بلکہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مستقل نگرانی اور بروقت اقدامات ضروری ہیں۔
واضح رہے کہ 30 مئی کو ساکیت میٹرو اسٹیشن کے قریب سیدالاعجائب علاقے میں ایک عمارت اچانک منہدم ہو گئی تھی۔ حادثے کے بعد علاقے میں افراتفری پھیل گئی اور امدادی ٹیموں نے فوری طور پر ملبہ ہٹانے اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا کام شروع کیا۔ اطلاعات کے مطابق عمارت قریب واقع ایک کینٹین پر گری تھی، جہاں اس وقت متعدد افراد موجود تھے۔
Published: undefined
حادثے میں 6 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے تھے۔ پولیس نے اس معاملے میں غیر ارادی قتل سمیت متعدد سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ اس کے علاوہ 71 سالہ مکان مالک کرم بیر سیجوال کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔ معاملہ اس وقت سپریم کورٹ کی نگرانی میں زیر سماعت ہے اور عدالت کی آئندہ کارروائی پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined