
منہدم عمارت کا ملبہ، تصویر سوشل میڈیا
جنوبی دہلی کے سیدالعجاب علاقے میں ساکیت میٹرو اسٹیشن کے قریب 6 منزلہ عمارت زمیں بوس ہونے کے بعد دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کا کردار سوالوں کے گھیرے میں آگیا ہے۔ سب سے بڑا سوال اس جواب کو لے کر اُٹھ رہا ہے جو کارپوریشن نے حادثے سے محض ڈیڑھ ماہ قبل دہلی ہائی کورٹ میں داخل کیا تھا۔ 13 اپریل 2026 کو ہوئی سماعت کے دوران ایم سی ڈی نے عدالت کو بتایا تھا کہ متعلقہ عمارت میں کوئی تعمیراتی کام نہیں چل رہا ہے لیکن مقامی باشندوں کا دعویٰ ہے کہ عمارت میں مسلسل تعمیرات اور مرمت کا کام جاری تھا۔ اب عمارت کے منہدم ہونے اور لوگوں کی جان جانے کے بعد کارپوریشن کے اس دعوے کی سچائی پر سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔
Published: undefined
سیدالعجاب کا معاملہ پہلے بھی عدالت تک پہنچ چکا تھا۔ ستمبر 2025 میں اسی علاقے میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف دہلی ہائی کورٹ نے ایم سی ڈی کو کارروائی کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اس وقت کارپوریشن نے عدالت کو بتایا تھا کہ نوٹس اور انہدام کے احکامات جاری کئے جاچکے ہیں لیکن پولیس کی مدد اور انتظامی وجوہات کی بنا پر کارروائی مکمل نہیں ہو سکی۔ عدالت نے اس وقت افسران کے کام کاج پر بھی برہمی کا اظہار کیا تھا اور پوچھا تھا کہ ان کی نگرانی میں غیر قانونی تعمیرات کیسے تیار ہو رہی ہیں۔
Published: undefined
جس عمارت میں حادثہ پیش آیا اس کے حوالے سے بھی کئی سوال سامنے آ رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق عمارت کی بالائی منزلوں پر تعمیراتی سرگرمیاں اور مرمت لگاتار جاری تھیں۔ وہیں کچھ حصوں میں تجارتی سرگرمیاں جیسے کوچنگ سنٹر، دفاتر اور کینٹین بھی چل رہے تھے۔ اس کے باوجود اگر ایم سی ڈی نے عدالت کو بتایا کہ موقع پر کوئی تعمیراتی کام نہیں چل رہا تھا تو یہ تحقیقات کا اہم موضوع بن سکتا ہے۔ گزشتہ کچھ ماہ کے دوران دہلی ہائی کورٹ مختلف معاملات میں ایم سی ڈی کو غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دیتا رہا ہے۔ نوٹس جاری کرنے کے ساتھ ساتھ عدالت نے معائنہ، مسمار کرنے اور ذمہ دار اہلکاروں کو جوابدہ ٹھہرانے پر بھی زور دیا تھا۔ اس کے باوجود زمینی سطح پر موثر کارروائی نہ ہونے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
Published: undefined
اب سیدالعجائب حادثے کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر عمارت میں واقعی تعمیراتی یا ساختی تبدیلیاں ہو رہی تھیں تو ایم سی ڈی کا مانیٹرنگ سسٹم ان کا پتہ لگانے میں کیوں ناکام رہا؟ اس کے ساتھ ہی یہ بھی تحقیقات کا موضوع ہو گا کہ عدالت کو فراہم کی گئی معلومات اور جائے وقوعہ کی اصل صورتحال میں کوئی فرق تھا یا نہیں۔ یہ پہلو اب حادثے کی جانچ میں سب سے اہم کڑی بن سکتا ہے۔
Published: undefined
اس سلسلے میں حال ہی کئی اہم مقدمات سامنے آئے جس میں ہائی کورٹ نے ضروری ہدایات جاری کی تھیں جیسے کہ 19 جنوری 2026 کو جوہری فارم، جامعہ نگر میں غیر قانونی تعمیرات سے متعلق معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے ایم سی ڈی کو ہدایت دی کہ وہ حقائق کی جانچ کرے اور قواعد کے مطابق کارروائی کرے۔ اس کے باوجود مختلف درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت نے ایم سی ڈی کو ناجائز تعمیرات پر نوٹس جاری کرنے، معائنہ کرنے اور ضرورت پڑنے پر انہدامی کارروائی کے احکامات دیئے۔ کچھ معاملات میں عدالت نے ناجائز تعمیرات کو بچانے کے لیے بار بار عرضی دائر کرنے والوں پر جرمان لگایا۔ اس کے ساتھ ہی ایم سی ڈی کو غیر قانونی تعمیرات ہٹانے اور قانون کے سخت نفاذ کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت دی۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined