
اگر آپ بھی بینک کے کام اور کیش نکالنے کے لیے اے ٹی ایم کا استعمال کرتے ہیں، تو یہ خبر آپ کے لیے بہت ضروری ہے۔ نئے مالی سال کے آغاز یعنی یکم اپریل 2026 سے بینکنگ کی دنیا میں بڑی تبدیلیاں ہونے جا رہی ہیں۔ ملک کے بڑے بینکوں ایچ ڈی ایف سی بینک، پنجاب نیشنل بینک اور بندھن بینک نے اپنی اے ٹی ایم پالیسی اور ٹرانزیکشن فیس میں تبدیلیاں کی ہیں۔ ان تبدیلیوں کا براہ راست اثر آپ کی جیب اور روزانہ کی حد (ڈیلی لمٹ) پر پڑے گا۔ آئیے جانتے ہیں کہ آپ کے بینک نے اصول میں کیا تبدیلی کی ہے۔
Published: undefined
ایچ ڈی ایف سی بینک نے بڑی تبدیلی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب اے ٹی ایم سے یو پی آئی کے ذریعے کیش نکالنا بھی آپ کی فری ٹرانزیکشن لمٹ میں شامل ہوگا۔ یعنی اگر آپ پہلے سے طے شدہ فری لمٹ پار کر لیتے ہیں، تو ہر اضافی ٹرانزیکشن پر 23 روپے پلس ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ پہلے یو پی آئی کیش نکالنے کو الگ مانا جاتا تھا، لیکن اب اسے عام اے ٹی ایم سے رقم نکالنے جیسا ہی تصور کیا جائے گا۔
Published: undefined
پی این بی نے اپنے کئی ڈیبٹ کارڈس کے لیے روزانہ کیش نکالنے کی حد کم کر دی ہے۔ کچھ کارڈس پر لمٹ ایک لاکھ روپے سے گھٹا کر 50,000 روپے کر دی گئی ہے، جبکہ پریمیم کارڈس پر لمٹ 1.5 لاکھ روپے سے کم کر کے 75,000 روپے کر دی گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب بڑی رقم نکالنے کے لیے آپ کو کئی بار اے ٹی ایم جانا پڑ سکتا ہے۔
Published: undefined
ایچ ڈی ایف سی اور پی این بی کے علاوہ بندھن بینک نے بھی اے ٹی ایم استعمال کرنے کے قوانین تبدیل کر دیے ہیں۔ اپنے اے ٹی ایم پر ہر ماہ 5 مفت مالیاتی لین دین اور دوسرے بینکوں کے اے ٹی ایم پر میٹرو شہروں میں 3 جبکہ غیر میٹرو شہروں میں 5 مفت ٹرانزیکشن ہوں گی۔ اس کے بعد ہر ٹرانزیکشن پر 23 روپے (مالیاتی) اور 10 روپے (غیر مالیاتی) چارج لاگو ہوں گے۔ اگر کھاتے میں رقم کم ہونے کی وجہ سے ٹرانزیکشن فیل ہوتی ہے، تو 25 روپے کا اضافی چارج ادا کرنا ہوگا۔ میٹرو شہروں میں بنگلور، چنئی، حیدرآباد، کولکاتہ، ممبئی اور نئی دہلی شامل ہیں۔ باقی تمام شہر غیر میٹرو کیٹیگری میں آتے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined