قومی خبریں

انتخابی بانڈ معاملہ پر لوک سبھا میں ہنگامہ، کانگریس کا واک آؤٹ

کانگریس کے منیش تیواری نے وقفہ صفر کے دوران یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ریزروبینک اور انتخابی کمیشن کی مخالفت کے باوجود حکومت نے انتخابی بانڈ جاری کرکے ’سرکاری بدعنوانی‘ کوعملی جامہ پہنایا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

نئی دہلی: اپوزیشن پارٹی کانگریس نے انتخابی بانڈ کے بے جا استعمال اور سرکاری کمپنیوں کی سرمایہ کشی کے معاملے میں حکومت کو گھیرتے ہوئے جمعرات کو لوک سبھا میں ہنگامہ کیا اور بعد میں ایوان سے واک آؤٹ کیاجبکہ حکومت نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ اس پر آج تک بدعنوانی کا کوئی الزام نہیں لگاہے۔

Published: 21 Nov 2019, 2:11 PM IST

کانگریس کے منیش تیواری نے وقفہ صفر کے دوران یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہاکہ ریزروبینک اور انتخابی کمیشن کی مخالفت کے باوجود حکومت نے انتخابی بانڈ جاری کرکے ’سرکاری بدعنوانی ‘کوعملی جامہ پہنایا۔ انھوں نے کہا،’’ حکومت کے نامعلوم انتخابی بانڈ جاری کرنے سے سرکاری بدعنوانی کو عملی جامہ پہنایاگیا۔اس میں نہ تو چندا دینے والے کا ،نہ تو چندے کی رقم کے ذرائع کا اور نہ ہی چندا پانے والے کاپتہ ہوتاہے ۔پہلے صرف لوک سبھا انتخابات کےلیے انتخابی بانڈ جاری کرنے کا التزام تھا ،لیکن کرناٹک انتخابات سے عین قبل وزیراعظم کے دفترکے حکم پر ....‘‘اس کے بعد اسپیکر اوم برلا نے انھیں یہ کہہ کر روک دیا کہ وہ کسی کانام نہیں لے سکتے۔ تیواری نے کہاکہ انکے پاس اس کے ثبوت کے طورپر دستاویزات ہیں جنھیں وہ ایوان میں پیش کرسکتے ہیں ۔اس پر برلا نے کہاکہ وہ کاغذات ایوان میں پیش کردیں جس پر وہ غورکریں گے ۔

Published: 21 Nov 2019, 2:11 PM IST

تیواری کی پوری بات نہیں سنے جانے پر کانگریس اور بائیں بازو کی پارٹیوں کےارکان نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
اس سے قبل وقفہ سوال شروع ہوتے ہی کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے یہ معاملہ اٹھانے کی کوشش کی جس پر پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے کہاکہ اپوزیشن کے ارکان جوبھی موضوع اٹھانا چاہتے ہیں اسپیکر انھیں وقفہ صفر میں اٹھانے دیں ۔انھیں نے کہاکہ کانگریس ارکان ہر دن تحریک التوا پیش کردیتے ہیں ۔انھوں نے کہاکہ موجودہ حکومت یاخود وزیراعظم نریندرمودی پر آج تک بدعنوانی کا ایک بھی الزام نہیں لگاہے ۔

Published: 21 Nov 2019, 2:11 PM IST

ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی چودھری اپنی جگہ کھڑ ے ہوگئے اور کچھ بولنے کی کوشش کرنے لگے ۔کانگریس کے دیگر ارکان بھی اپنی اپنی جگہوں پر کھڑے ہوگئے ۔وہ حکومت پر انتخابی بانڈ کے ذریعہ ملک کولوٹنے اور سرکاری کمپنیوں میں سرمایہ کشی کرکے ’ ملک کوبیچنے ‘کاالزام لگارہے تھے ۔انکا کہنا تھاکہ انھوں نے اس معاملہ پر التوا کی تحریک پیش کی ہے اور اس لیے وقفہ سوال کوروک کر پہلے انکی بات سنی جائے ۔

Published: 21 Nov 2019, 2:11 PM IST

جب اسپیکر نے انھیں بولنے کی اجازت نہیں دی تو وہ نشست کے نزدیک آکر نعرہ بازی کرنے لگے ۔وہ ’ملک کو بیچنا بندکرو‘اور ’ وزیراعظم جواب دو‘کے نعرے لگارہے تھے ۔ کچھ دیر تک نعرے بازی جاری رہنے پر اسپیکر نے انھیں نصیحت کی کہ وہ ایوان کے وسط میں آکر ان سے بات نہیں کرسکتے ۔ انھوں نے کہاکہ’’ ایوان کا وقار برقرار رکھنے کی ذمہ داری ہم سب کی ہے ۔ایوان کے وسط میں کھڑے ہوکر آپ مجھ سے بات نہیں کرسکتے ،میں نے التوا پر رولنگ نہیں دی ہے ۔میں آپ کو موقع دونگا ۔‘‘انھوں نے پھر ایک بار متنبہ کیاکہ کوئی بھی رکن ایوان کے وسط میں کھڑا ہوکر چیئر سے بات نہیں کرے گا ۔ اس پر چودھری نے کہاکہ جب کوئی ایسا معاملہ آجاتاہے جہا ں ملک کا بڑا مفاد داؤپر ہوتاہے تو انھیں التواکی تحریک پیش کرنی پڑتی ہے ۔انھوں نے کہا،’’ انتخابی بانڈ کے ذریعہ ملک کو لوٹاجارہاہے ۔‘‘

Published: 21 Nov 2019, 2:11 PM IST

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 21 Nov 2019, 2:11 PM IST