
پارلیمنٹ کی نئی عمارت / آئی اے این ایس
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ہنگامہ کی وجہ سے آج بھی اب تک کوئی کارروائی نہیں ہو پائی ہے۔ لوک سبھا کی کارروائی تو آج شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد 2 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی، جبکہ راجیہ سبھا کی کارروائی وقفہ وقفہ پر 2 بار چلانے کی کوشش کی گئی، لیکن ناکامی ہاتھ لگی۔ راجیہ سبھا کی کارروائی آج صبح پہلے تو 12 بجے تک کے لیے ملتوی کی گئی، اور 12 بجے جب کارروائی شروع ہوئی تو ہنگامہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے کارروائی کو 2 بجے تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا۔
لوک سبھا میں آج صبح جب کارروائی شروع ہوئی تو اسپیکر اوم برلا نے کوشش کی کہ برسراقتدار اور حزب اختلاف دونوں بہتر ماحول میں بحث کا حصہ بنیں۔ حالانکہ یہ کوشش ناکام ثابت ہوئی۔ انھوں نے لوک سبھا کی کارروائی شروع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’وقفہ سوالات کے اندر صرف وقفہ سوالات ہوگا۔ یہ سہولت سبھی کو دے رکھی ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ملک کی عوام چاہتی ہے کہ ایوان چلے۔ میں نے سبھی سے گزارش کی ہے کہ ایوان چلے اور بحث ہو۔‘‘ اس گزارش کے بعد بھی ہنگامہ والے حالات ایوان زیریں میں بنے رہے، اور نتیجۂ کار کارروائی 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ آج پارلیمنٹ احاطہ میں برسراقتدار طبقہ اور حزب اختلاف طبقہ دونوں کے ہی اراکین پارلیمنٹ احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے دکھائی دیے۔ برسراقتدار طبقہ جھارکھنڈ میں طلبا تحریک کی حمایت میں احتجاج کر رہے تھے، جبکہ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ گزشتہ دنوں کی طرح دہلی میں طلبا پر ہوئی پولیس بربریت اور رام مندر میں چندہ چوری معاملہ پر احتجاج کر رہے تھے۔ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے ’چندہ چورہ کہاں ملیں گے، بی جے پی کے دفتر میں‘ نعرہ بھی لگایا اور امت شاہ سے طلبا پر ہوئی بربریت کا جواب بھی مانگا۔
اس درمیان کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے پارلیمنٹ احاطہ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے صاف لفظوں میں کہا کہ ’’ہمارے 3 اہم ایشوز ہیں، جس کی طرف حکومت کو توجہ دینی چاہیے۔‘‘ کانگریس صدر نے جو 3 ایشوز سامنے رکھے، وہ اس طرح ہیں:
طلبا کے اوپر لاٹھی-گولی کس نے چلوائی، امت شاہ ایوان میں آ کر اس کا جواب دیں
پولیس کی بربریت کے سبب بہت سارے بچے زخمی ہوئے ہیں، نریندر مودی اس کے لیے معافی مانگیں
رام مندر میں ہوئی ’چندہ چوری‘ پر وزیر اعظم نریندر مودی جواب دیں۔
دوسری طرف کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے پارلیمنٹ احاطہ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے برسراقتدار طبقہ کے احتجاجی مظاہرہ پر طنزیہ حملہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں نے پہلی بار دیکھا ہے جب برسر اقتدار طبقہ کے اراکین پارلیمنٹ احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’کم از کم ہم نے انھیں ایسا کرنے کے لیے مجبور تو کر لیا ہے، اس لیے اب امت شاہ ایوان میں آئیں اور بیان دیں۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔