
تصویر آئی اے این ایس
بہار کی سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی کو سرکاری رہائش گاہ خالی کرنے کے نوٹس پر جاری سیاسی تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے ایک بار پھر ریاستی حکومت اور وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری پر سخت حملہ کرتے ہوئے ان کے سرکاری بنگلے کو ملک کے وزیر اعظم کی رہائش گاہ سے بھی بڑا قرار دیا ہے۔
Published: undefined
پٹنہ میں آر جے ڈی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے پرنسپل جنرل سکریٹری عبدالباری صدیقی نے کہا کہ ملک کی غریب ترین ریاستوں میں شمار ہونے والے بہار کے وزیر اعلیٰ کا سرکاری بنگلہ نہایت وسیع، پُرتعیش اور سات ستارہ معیار کی رہائش گاہ جیسا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سمراٹ چودھری کی رہائش گاہ وزیر اعظم کی رہائش سے بھی بڑی ہے اور اس کے رقبے میں مزید اضافہ کیا گیا ہے۔
عبدالباری صدیقی نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ نے پہلے نائب وزیر اعلیٰ کے لیے مختص رہائش گاہ، پانچ دیش رتن مارگ، کو بھی اپنے سرکاری احاطے میں شامل کر لیا ہے۔ ان کے مطابق دہلی میں بہار نواس اور بہار بھون کی موجودگی کے باوجود سمراٹ چودھری نے ٹائپ-8 بنگلہ بھی حاصل کر رکھا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کا مجموعی رقبہ پندرہ ایکڑ سے زیادہ ہو چکا ہے۔
Published: undefined
آر جے ڈی رہنما نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کا دعویٰ کرتی ہے تو نائب وزرائے اعلیٰ وجے چودھری اور وجیندر یادو کو ان کے لیے مختص سرکاری رہائش گاہوں میں منتقل کیوں نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ رہنما وزارتی حیثیت سے پرانی رہائش گاہوں میں قیام کر سکتے ہیں تو پھر سابق وزیر اعلیٰ اور موجودہ قائد حزب اختلاف رابڑی دیوی کے ساتھ مختلف رویہ کیوں اختیار کیا جا رہا ہے۔
عبدالباری صدیقی نے حکومت پر سیاسی انتقام اور جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ رابڑی دیوی کے خلاف کارروائی بدلے کی سیاست کا حصہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اسی طرز پر کام کرتی رہی تو آر جے ڈی کے رہنما اپنی سرکاری رہائش گاہیں اور سیکورٹی واپس کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔
Published: undefined
واضح رہے کہ بہار حکومت نے رابڑی دیوی کو دس سرکولر روڈ کی رہائش گاہ خالی کرنے کا نوٹس جاری کیا ہے اور ان کے لیے انتالیس ہارڈنگ روڈ کا بنگلہ مختص کیا گیا ہے۔ تاہم رابڑی دیوی نے موجودہ رہائش گاہ خالی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ پٹنہ ضلع انتظامیہ نے انہیں نئی رہائش گاہ میں منتقل ہونے کے لیے پندرہ دن کی مہلت دی ہے اور اس کے بعد قانونی کارروائی کا انتباہ بھی دیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined