
علامتی تصویر آئی اے این ایس
خوردہ مہنگائی مارچ میں معمولی طور پر بڑھ کر 3.40 فیصد ہو گئی، جبکہ فروری میں یہ 3.21 فیصد تھی۔ حکومت نے پیر (13 اپریل) کو اس سے متعلق اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافے کی شرح 3.87 فیصد رہی، جو گزشتہ ماہ کے 3.47 فیصد سے زیادہ ہے۔ دیہی اور شہری علاقوں کے لیے سی پی آئی افراط زر بالترتیب 3.63 فیصد اور 3.11 فیصد رہی۔ حالانکہ یہ معمولی اضافہ فوری طور پر تشویش کا باعث نہیں ہے کیونکہ مجموعی قیمت میں اضافہ اب بھی 4 فیصد کے سہولت آمیز اور قابل انتظام سطح سے نیچے ہے۔
Published: undefined
اعداد و شمار کے گہرے تجزیے سے واضح ہوتا ہے کہ شہروں کے مقابلے گاؤں میں مہنگائی کا دباؤ تھوڑا زیادہ بنا ہوا ہے۔ دیہی علاقوں میں خوردہ مہنگائی کی شرح 3.63 فیصد درج کی گئی جبکہ اس کے مقابلے شہری علاقوں میں یہ شرح 3.11 فیصد کی نچلی سطح پر رہی۔ یہ فرق واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ گاؤں اور شہروں کے درمیان قیمتوں کا دباؤ کس طرح مختلف ہے۔
Published: undefined
گھریلو بجٹ میں سب سے زیادہ اہم کردار ادا کرنے والی اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ آل انڈیا کنزیومر فوڈ پرائس انڈیکس (سی ایف پی آئی) مارچ میں 3.87 فیصد (عارضی) درج کیا گیا، جو فروری کے 3.47 فیصد سے زیادہ ہے۔ یہاں بھی دیہی علاقوں میں اشیاء کی مہنگائی (3.96 فیصد) شہری علاقوں (3.71 فیصد) کے مقابلے میں زیادہ رہی، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ دیہی علاقوں میں خوراک کی لاگت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس کے برعکس گھر (ہاؤسنگ) کے شعبہ میں مہنگائی کی شرح 2.11 فیصد (عارضی) کی نچلی سطح پر رہی۔ شہری مکانات کی مہنگائی 1.95 فیصد اور دیہی علاقوں میں 2.54 فیصد رہی۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فی الحال کرایے اور مکان سے متعلق خرچ نے صارفین پر کوئی بڑا اضافی دباؤ نہیں ڈالا ہے۔
Published: undefined
مارچ کے اعداد و شمار میں سب سے بڑی راحت رسوئی کے اہم سامانوں کی قیمتوں میں آئی بھاری کمی ہے، جبکہ کچھ دیگر شعبوں میں مہنگائی کا اثر اب بھی قائم ہے۔ پیاز اور آلو جیسی روز مرہ کی سبزیوں کی قیمتوں میں بھاری گراوٹ درج کی گئی ہے، جس سے مجموعی خوراک بل کو کم کرنے میں مدد ملی ہے۔ اس کے علاوہ لہسن، ارہر دال اور مٹر جیسی چیزوں نے منفی مہنگائی درج کی ہے، جس کا مطلب ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں ان کی قیمتیں کم ہوئی ہیں۔ جبکہ اشیائے خورد و نوش کی بات کریں تو ناریل، ٹماٹر اور پھول گوبھی میں بھی زیادہ مہنگائی دیکھی گئی ہے۔ دوسری جانب زیورات کی مارکیٹ میں قیمتیں مسلسل اونچی سطح پر بنی ہوئی ہیں۔ حالانکہ چاندی کے زیورات کی قیمتوں میں فروری کے مقابلے میں معمولی نرمی آئی ہے، لیکن سونے، ہیرے اور پلاٹینم کی زیورات میں مضبوط اضافہ جاری ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ مارچ 2026 کی مہنگائی کے اعداد و شمار صارفین کے لیے ایک ملی جلی صورتحال پیش کرتی ہیں۔ جہاں ایک طرف سبزیوں اور دالوں کی کم ہوتی قیمتوں نے گھریلو بجٹ کو کچھ حد تک راحت دی ہے، دوسری جانب زیورات اور چنندہ اشیائے خورد و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اب بھی دباؤ بنائے ہوئے ہیں۔ چونکہ اہم مہنگائی کی شرح کنٹرول میں ہے، اس لیے مجموعی معاشی نقطہ نظر مستحکم نظر آتا ہے۔ حالانکہ مختلف زمروں میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے ہر ایک خاندان پر اس کا حقیقی اثر الگ الگ پڑ رہا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined