
عمرعبداللہ (ویڈیو گریب)
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بدھ (15 اپریل) کو ایک پروگرام کا افتتاح کرنے گئے تھے۔ وہاں ان کی نظر ترنگے کے رنگ والے ربن پر پڑی تو انہوں نے اسے کاٹنے سے منع کر دیا۔ واضح رہے کہ 56 سالہ عمر عبداللہ سری نگر کے کشمیر ہاٹ میں ’اپنے کاریگروں کو جانیں‘ نامی تقریب کا افتتاح کرنے گئے تھے۔ ویڈیو میں واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ وزیر اعلیٰ ربن کی طرف جاتے ہیں اور پھر قومی پرچم کے رنگوں والے ربن کو دیکھ کر رک جاتے ہیں۔ اس کے بعد وہ کہتے ہیں کہ اسے دونوں طرف سے کھول دیجیے۔
Published: undefined
اس موقع پر ریاستی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ساتھ نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری، ان کے مشیر ناصر اسلم وانی اور کئی دیگر لوگ بھی موجود تھے۔ ربن کھولنے کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد، عمر عبداللہ شہر کے وسط میں واقع ’کشمیر ہاٹ‘ میں تقریب کی باقی کارروائی کے لیے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ان کے اس قدم کی انٹرنیٹ پر لوگوں نے جم کر تعریف کی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک صارف نے لکھا کہ ’’عمر عبداللہ کو ان کے گہرے مشاہدے اور بروقت درستی کے لیے مبارکباد۔‘‘ ایک دوسرے صارف نے لکھا کہ ’’وزیر اعلیٰ، میں آپ کے اس قدم کی تعریف اور حمایت کرتا ہوں۔ ایک رول ماڈل بننے کے لیے آپ کا شکریہ۔ بھارت ماتا کی جے۔‘‘
Published: undefined
ایک دوسرے صارف نے سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا کہ ’’کس نے سوچا تھا کہ ترنگے کو ربن کے طور پر استعمال کرنا ایک اچھا خیال ہوگا؟ کیا ہمارے ملک کے لوگ واقعی اتنے بے حس ہیں؟‘‘ ’بین الاقوامی تعلقات‘ میں پی ایچ ڈی کی طالبہ نے کہا کہ ’’عمر عبداللہ نے ترنگے کو ربن کے طور پر نہ کاٹنے کا فیصلہ کیا۔ کیا انہیں مدعو کرنے والے لوگوں نے اس بارے میں ٹھیک سے نہیں سوچا تھا؟‘‘
Published: undefined
نیشنل کانفرنس کے رہنما گگن بھگت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’ترنگے کے لیے حقیقی احترام ایسا ہی ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں جب حب الوطنی اکثر سستے ٹی وی مباحثوں تک سمٹ کر رہ گئی ہے، ایسے کام الفاظ سے زیادہ بولتے ہیں۔‘‘ دوسری جانب اس واقعے نے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا اور اس پرائیویٹ ادارے کے انتظام و انصرام پر بھی سوالات کھڑے کر دیے جو اس پروگرام کا انعقاد کر رہا تھا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined