مدھیہ پردیش وقف بورڈ، تصویر سوشل میڈیا
مدھیہ پردیش میں نئے ایکٹ کے تحت وقف بورڈ کی تشکیل نو کی گئی ہے، جس میں پہلی بار غیر مسلموں کو داخلہ دیا گیا ہے۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی ڈاکٹر موہن یادو نے اس سلسلے میں اہم پیش رفت کی، اور اب ایسا قدم اٹھانے کے معاملے میں مدھیہ پردیش ملک کی پہلی ریاست بن گیا ہے۔ یہ تشکیل نو وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے التزامات کے تحت تشکیل کی گئی ہے۔ اس حوالے سے حکومت نے 4 جولائی کو ہی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا۔
Published: undefined
مدھیہ پردیش گزٹ میں جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے صدر سنور پٹیل ہوں گے اور کل 10 ممبران ہوں گے۔ ان میں 2 ہندو ممبران منوج مالپانی اور انمیش بھارگو کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ نئے ایکٹ کے تحت وقف بورڈ کی تشکیل نو کرنے والا مدھیہ پردیش ملک کی پہلی ریاست بن گیا ہے۔ اس سے قبل پرانے التزامات کے مطابق وقف بورڈ کے کچھ ممبران کو ریاستی حکومت نامزد کرتی تھی، اور جو بھی رکن نامزد کیا جاتا تھا اس کا مسلم ہونا لازمی تھا۔ 2025 میں ریاستی حکومت نے اس قانون میں ترمیم کر کچھ اہم شقوں میں تبدیلی کی۔ اس تبدیلی کے بعد وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے التزامات کے تحت سبھی ریاستوں میں کم از کم 2 غیر مسلم ممبران کا ہونا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
Published: undefined
مدھیہ پردیش حکومت نے وقف ایکٹ-1995 (ترمیم شدہ ایکٹ 2025) کی دفعہ-(1)13 کے تحت ملے اختیارات کا استعمال کیا ہے۔ نئے وقف بورڈ میں نئی دہلی کی نجمہ ہپت اللہ، بھوپال شمال سے رکن اسمبلی عتیق عقیل، اجین کے فیاض خان، اندور کی فاطمہ چودھری، بھوپال سے شائستہ سلطان کونسلر بیرسیا، رتلام کی کونسلر شبانہ خان، اندور کے منوج مالپانی، گنا کے انمیش بھارگو اور پسماندہ طبقہ و اقلیتی فلاح وبہبود کے کمشنر کو رکن بنایا گیا ہے۔ نجمہ ہپت اللہ کا نام ان کی پہلی مدت کی بنیاد پر شامل کیا گیا ہے۔ نجمہ ہپت اللہ وقف ایکٹ 1995 کی دفعہ 14 (بشمول 2013 کی ترمیم) کے تحت 19 اپریل 2023 کو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے منتخب کیٹیگری سے مقرر کی گئی رکن ہیں۔ ان کی میعاد 18 اپریل 2028 تک نافذ العمل ہے۔ اس لیے انہیں اپنی باقی ماندہ مدت کے لیے نئے نوٹیفکیشن میں شامل کیا گیا ہے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined