
سوشل میڈیا
این سی ای آر ٹی نے کلاس 8 کی سوشل سائنس میں عدلیہ سے متعلق باب پر یوٹرن لے لیا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت کی کڑی پھٹکار کے بعد این سی ای آر ٹی نے’عدلیہ میں بدعنوانی‘ والے باب کو حذف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سنگین معاملے میں آج سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران این سی ای آر ٹی نے غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے معافی بھی مانگی ہے۔ تاہم معاملے سے سخت ناراض سی جے آئی سوریہ کانت نے ادارے کو پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ معافی مانگ لینا یا قابل اعتراض باب کو ہٹا دینا کافی نہیں ہے۔
Published: undefined
سپریم کورٹ نے این سی ای آر ٹی سے کہا ہے کہ وہ یہ بتائے کہ اس کے پیچھے کون ہے اور جب تک مکمل حقائق سامنے نہیں آتے، سماعت جاری رہے گی۔ جمعرات کے روزعدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران سی جے آئی نے کہا کہ یہ سوچی سمجھی حرکت ہے۔ اس معاملے میں چیف جسٹس انتہائی برہم نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں کون ذمہ دار ہے، میں پتا کروں گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ معاملہ یہیں ختم نہیں ہورہا ہے۔ سالیسیٹر نے بھی کہا کہ آپ آٹھویں جماعت کے طالب علم کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟
Published: undefined
چیف جسٹس نے کہا کہ بہت منظم طریقے سے چیزیں پیش کی گئی ہیں۔ اس کے ذریعہ عدلیہ کی شبیہ خراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ جج کے کمنٹس کو منتخب طریقے سے پیش کیا گیا ہے، عدلیہ کی نامکمل شبیہ گڑھی گئی ہے۔ عدلیہ کے وقار اوراس کی آئینی ذمہ داریوں کے بارے میں معلومات فراہم نہ کرکے صرف منتخب طریقے سے اس کے وقار کو ٹھیس پہنچائی گئی ہے۔ اس پورے معاملے کو سی جے آئی کے نوٹس میں لانے والے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے اس موقع پرسوال کیا کہ سیاست میں جو بدعنوانی ہے، اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟
Published: undefined
چیف جسٹس نے کہا کہ آئین تیار کرنے والوں نے بڑی احتیاط اور دور اندیشی کے ساتھ اس بات کو یقینی بنایا کہ آئینی دفعات کو اس قدر دور اندیشی کے ساتھ درج کیا جائے کہ حکمرانی کے تینوں اجزاء اپنی اپنی خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے جمہوری فریم ورک کے اندر کام کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آئینی طور پر متعین حدود اور تقسیم کو تسلیم کرتے ہوئے ہم اس وقت حیران رہ گئے جب ایک مشہور اخبار نے 8 ویں کلاس (باب 2) کی سوشل سائنس کتاب جواین سی ای آرٹی کی طرف سے شائع کی گئی ہے، کے اجراء کے سلسلے میں ایک مضمون شائع کیا۔ اس اشاعت کا باب 4 ’ہمارے سماج میں عدلیہ کا کردار‘ عنوان سے ہے۔
Published: undefined
مضمون کے ذیلی عنوان میں واضح طور پر’عدلیہ میں بدعنوانی‘ پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ کسی بنیادی تعلیمی مہم کے تحت ایسے موضوع کو شامل کیا جانا عدلیہ کے ادارہ جاتی وقار اور اس کی حالت کے سلسلے میں ایک سخت پیشگی جائزہ کا مطالبہ کرتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined