
فائل تصویر آئی اے این ایس
دہلی حکومت نے ایوی ایشن ٹربائن فیول (ATF) پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT) میں نمایاں کمی کی ہے۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی قیادت میں کابینہ نے اے ٹی ایف پر ویلیو ایڈڈٹیکس کو 25 فیصد سے کم کر کے 7 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے درمیان بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات کے ساتھ جدوجہد کرنے والی ایئر لائنز کو اہم ریلیف فراہم کرنا ہے۔
Published: undefined
ایئر لائن کمپنیاں طویل عرصے سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ ٹیکس کی اتنی زیادہ شرح قومی دارالحکومت کے مصروف ایوی ایشن ہب میں آپریشنل اخراجات میں نمایاں اضافہ کرتی ہے۔ ایک دن پہلے، مہاراشٹر حکومت نے بھی اے ٹی ایف پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس کو 18 فیصد سے کم کر کے 7 فیصد کر دیا تھا۔ مغربی ایشیا میں عدم استحکام اور خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے عالمی سطح پر اے ٹی ایف کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔
Published: undefined
اس وقت ہوا بازی کے شعبے پر دباؤ کم کرنے کے لیے دہلی اور مہاراشٹر کی حکومتوں نے ویلیو ایڈڈ ٹیکس یعنی ویٹ کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ویٹ ایندھن ایئر لائنز کے آپریشنل اخراجات میں نمایاں حصہ ڈالتا ہے، اور اے ٹی ایف کی بڑھتی ہوئی قیمتیں براہ راست ان کے منافع اور ہوائی کرایوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اسی طرح VAT کو کم کرنے سے ہوائی کرایوں اور ان کے منافع پر بھی اثر پڑے گا۔
Published: undefined
حکام کا خیال ہے کہ ہوا بازی کے ایندھن پر ویٹ کو کم کرنے سے ایئر لائنز کو بڑھتے ہوئے اخراجات کو سنبھالنے میں مدد ملے گی اور آنے والے مہینوں میں ہوائی کرایوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کو روکا جا سکے گا۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کئی فضائی کمپنیوں نے ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں بڑھتی رہیں تو یہ بوجھ زیادہ کرایوں کی صورت میں مسافروں پر پڑ سکتا ہے۔
Published: undefined
ہوا بازی کے شعبے کے ماہرین طویل عرصے سے ریاستوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اے ٹی ایف ٹیکس کو معقول بنائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں ایوی ایشن فیول ٹیکس دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ٹیکس میں کمی سے رابطے میں بہتری آئے گی، مسافروں کی آمدورفت بڑھے گی اور ہوا بازی کے شعبے کی طویل مدتی ترقی کو فروغ ملے گا۔ دہلی حکومت کے اس فیصلے کو دیگر بڑے ہوابازی مراکز کے ساتھ مسابقت برقرار رکھنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined