
اتر پردیش میں وقف جائیدادوں کے متعلق بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ ’امید‘ پورٹل پر وقف کی 31 ہزار سے زیادہ جائیدادوں کا رجسٹریشن منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ان جائیدادوں کے دستاویزات میں ملنے والی خامیوں اور تکنیکی غلطیوں کے بعد یہ کارروائی کی گئی ہے۔ پورٹل پر اب تک 31328 رجسٹریشن منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ دراصل مرکزی حکومت کی اقلیتی امور کی وزارت نے گزشتہ سال ہی وقف جائیدادوں کی تفصیلات ’امید‘ پورٹل پر درج کرانے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ وقف جائیدادوں کے حوالے سے شفافیت برقرار رہے۔ اس پورٹل پر اتر پردیش میں 118302 وقف جائیدادوں کا رجسٹریشن کرایا گیا تھا، جن میں سے 31328 کا رجسٹریشن منسوخ کر دیا گیا ہے۔
Published: undefined
ان میں سے کئی ایسی جائیدادیں تھیں جن کے دستاویزات میں خامیاں پائی گئی تھیں، تو کئی جائیدادوں کے رجسٹریشن کو تکنیکی خامیوں کی وجہ سے منسوخ کیا گیا ہے۔ جانچ میں کئی جائیدادوں کے خسرہ نمبر وقف بورڈ کے ریکارڈ سے میل نہیں کھائے۔ کئی معاملات میں ریونیو ریکارڈ میں درج رقبے میں تبدیلی پائی گئی۔ کچھ قبرستانوں اور درگاہوں کا خسرہ 2-2 وقف جائیدادوں میں درج ملا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان وقف جائیدادوں کی جانچ کے دوران جب دستاویزات کی تصدیق نہیں ہو سکی، تو اس کے بعد ان کا رجسٹریشن ختم کر دیا گیا ہے۔
Published: undefined
اعداد و شمار کے مطابق وقف کی سب سے زیادہ منسوخ کی گئی جائیدادیں جونپور ضلع میں ہیں۔ یہاں 1938 وقف جائیدادوں کا رجسٹریشن منسوخ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ بارہ بنکی میں 1521، مظفر نگر میں 1510، علی گڑھ میں 1061 اور بستی میں 1000 وقف جائیدادیں منسوخ کی گئی ہیں۔ ان کے علاوہ اناؤ، سیتاپور، ہردوئی، اعظم گڑھ اور لکھنؤ میں بھی بڑے پیمانے پر وقف جائیدادوں کا رجسٹریشن منسوخ ہوا ہے۔ منسوخ کی گئی جائیدادوں کے بعد کئی قبرستانوں اور درگاہوں پر خطرہ منڈلانے لگا ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ شروع میں رجسٹریشن کرانے کے لیے 6 مہینے کا وقت دیا گیا تھا۔ لیکن اتر پردیش سنی اور شیعہ سنٹرل وقف بورڈ کی اپیل پر وقف ٹریبیونل نے رجسٹریشن کرانے کی مدت میں مزید 6 مہینے کا اضافہ کر دیا تھا۔ یہ اضافی وقت اگلے مہینے 5 جون کو ختم ہو رہا ہے۔ اب تک پورٹل پر درج کل 118302 جائیدادوں میں سے محض 53711 کو منظوری مل سکی ہے، جبکہ 20546 جائیدادوں کے دستاویزات کی جانچ آخری مرحلے میں ہے۔
Published: undefined
قانون کے مطابق رجسٹریشن کے وقت کی حد بڑھانے کا نظام محدود ہے۔ سپریم کورٹ کے اسٹے والے التزامات کے باوجود ٹریبونل پہلے ہی زیادہ وقت دے چکا ہے۔ اب متولیوں کو ذاتی طور پر ٹریبونل جانا پڑے گا، جو کہ قانونی طور پر ایک پیچیدہ اور وقت طلب عمل ہے۔ حالانکہ وقف بورڈ کے افسران کا یہ بھی کہنا ہے کہ متولیوں کے پاس اب بھی 5 جون تک کا وقت ہے۔ وہ درست دستاویزات کے ساتھ دوبارہ جائیداد کی تفصیلات اپلوڈ کر سکتے ہیں۔ اگر اس مدت کے دوران خامیاں دور نہ کی گئیں تو متعلقہ جائیدادیں پورٹل سے باہر ہو جائیں گی۔
Published: undefined
ریاست میں ’یوپی سنی وقف بورڈ‘ کے تحت 1.26 لاکھ سے زیادہ وقف ادارے آتے ہیں۔ یہ پورا عمل مرکزی حکومت کے ’امید‘ پورٹل کے ذریعے چلایا جا رہا ہے، جسے جون 2025 میں وقف جائیدادوں کا ڈیجیٹل ریکارڈ تیار کرنے اور ان کے انتظام میں شفافیت لانے کے مقصد سے لانچ کیا گیا تھا۔ اس پورٹل پر رجسٹریشن کرانا وقف (ترمیم) ایکٹ، 2025 کے تحت لازمی قرار دیا گیا ہے، جو 5 اپریل کو نافذ ہوا تھا۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined