
وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقہ وارانسی میں چرئی گاؤں کا ایک علاقہ ہے چھاہی۔ یہاں کچھ ماہ قبل چھ لاکھ کی لاگت سے کمیونٹی ٹوائلٹ یعنی عوای بیت الخلاء تعمیر ہوا۔ محکمہ جاتی فائلوں میں تو یہ کام کر رہا ہے، لیکن حقیقت میں یہ صرف پتہ بتانے کے کام آتا ہے۔ یہاں غسل خانہ میں دروازہ نہیں ہیں اور بیت الخلاء کے دروازے کا نصف حصہ ہی غائب ہے۔ گاؤں میں تعینات سکریٹری رام اوتار یادو دلیل دیتے ہیں کہ ’’سمرسیبل پمپ خراب ہونے سے بیت الخلاء بند کرنا پڑا ہے۔‘‘
Published: undefined
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے سال 2020 کے اکتوبر ماہ میں 7000 کروڑ سے زیادہ کی لاگت سے بنے 18847 کمیونٹی ٹوائلٹ کا افتتاح کیا تھا۔ اسی دن انھوں نے 35058 کمیونٹی ٹوائلٹس کا ورچوئل سنگ بنیاد بھی رکھا تھا۔ تب انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ 59 ہزار گرام پنچایتوں میں کمیونٹی ٹوائلٹ بننے سے انسفلائٹس اور دیگر سنگین بیماریوں سے نجات ملے گی۔ ساتھ ہی 59 ہزار خود مختار گروپ کی خواتین کو روزگار بھی ملے گا۔ 90 فیصد سے زیادہ ٹوائلٹس کی تعمیر کاغذوں پر مکمل ہو گئی ہے۔ اس کے رکھ رکھاؤ کے لیے ہر مہینے 3000 روپے اور دیکھ ریکھ کے لیے رکھی گئی فی خاتون 6000 روپے رقم دی جا رہی ہے۔
Published: undefined
لیکن یہ حقیقی معنوں میں کتنا فائدہ مند ہے، اسے ضرور دیکھنا چاہیے۔ پرتاپ گڑھ ڈیڈھوا گاؤں کی دلت بستی شبھوا میں تعمیر ٹوائلٹ میں بستر لگا نظر آتا ہے۔ یہاں کے سابق پردھان سنت رام بتاتے ہیں کہ ’’میری مدت کار میں ہی ٹوائلٹ بن کر تیار تھا۔ جہاں یہ بنا ہے، وہاں بجلی کا تار نہیں ہے۔ ایسے میں بورنگ نہیں ہو پا رہی ہے۔ بغیر پانی ٹوائلٹ کیسے جائیں گے لوگ؟‘‘ راجدھانی لکھنؤ کے بخشی تالاب میں ٹوائلٹ کی دیوار تو کھڑی کر دی گئی ہے لیکن سیپٹک ٹینک کھلا ہوا ہے۔ پردھان ارشاد ادھوری تعمیر کے لیے بجٹ کا رونا روتے ہیں۔ لیکن اس کا جواب نہیں دیتے کہ جب ٹوائلٹ کی تعمیر ہی نہیں ہوئی تو دیکھ ریکھ پر 9 ہزار روپے کس بات کے خرچ ہو رہے ہیں؟
Published: undefined
ویسے بغیر تعمیر کروڑوں روپے ہضم کرنے کے کئی معاملے ہیں۔ بھدوہی ضلع میں تو 40 گاؤں میں بغیر تعمیر کے ہی پردھان اور سکریٹریز نے 2.50 کروڑ روپے ہضم کر لیے۔ اسے خود ضلع مجسٹریٹ آریکا اکھوری نے پکڑا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ادھورے ٹوائلٹس کے انتظام و انصرام کے لیے خاتون گروپوں کو 27 ہزار سے لے کر 56 ہزار کی ادائیگی بھی کر دی گئی۔ اسی طرح سنت کبیر نگر کے ہیسر بزار بلاک کے سرسی گاؤں میں 8.22 لاکھ روپے ٹوائلٹس کے نام پر نکال لیے گئے لیکن یہ اب بھی ادھورا ہے۔ یہ معاملہ نومنتخب پردھان کے ذریعہ اے ڈی او پنچایت سے شکایت کے بعد کھلا۔
Published: undefined
کیا کمیونٹی ٹوائلٹ میں تالا بند کرنا مناسب ہے؟ کم و بیش سبھی کا جواب ہوگا ’نہیں‘۔ لیکن مین پوری ضلع کے پسینا گاؤں میں ٹوائلٹ کا تالا 8 بجے کھلتا ہے۔ فطری بات ہے کہ تب تک دیہی عوام حوائج ضروریہ سے فارغ ہو چکے ہوتے ہیں۔ سلیہی گاؤں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹوائلٹ پر تالا ہی لٹکا ملتا ہے۔ یہاں کے ڈی پی آر او سوامیدین قبول کرتے ہیں کہ صبح 5 سے 8 اور شام 6 سے 8 بجے تک ٹوائلٹ کھولنے کا حکم ہے۔ گورکھپور کے جنگل کوڑیا بلاک کے گوسائی پور میں بنے ٹوائلٹ کیگ ندگی دیکھ لوگ منھ موڑ لیتے ہیں۔ کیئرٹیکر سنینا دیوی کہتی ہیں کہ ’’بجلی کنکشن نہیں ہونے سے پانی کی سہولت نہیں ہے۔ لوگ گندہ کر کے چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘ ایس ڈی ایم پون کمار اعتراف کرتے ہیں کہ ’’بجلی کنکشن نہیں ہونے سے بیشتر ٹوائلٹس کا استعمال نہیں ہو رہا ہے۔‘‘
Published: undefined
مرکزی وزیر مملکت برائے مالیات پنکج چودھری کے پارلیمانی حلقہ مہاراج گنج کے گرام پنچایت رودرپور شیوناتھ میں کمیونٹی ٹوائلٹ کی دیواروں کے رنگ و روغن پر ہی محنت ہوئی ہے۔ ڈی پی آر او کے بی ورما نے بدحالی دیکھ کر تکنیکی جانچ کی ہدایت دی ہے۔ وہیں بکینیہاں ہریا میں بنے ٹوائلٹ میں ٹائلس، شیٹ کے ساتھ دروازہ بھی غائب ہے۔ محکمہ کی فائلوں میں ٹوائلٹ کی دیکھ ریکھ ہو رہی ہے۔
Published: undefined
گرام پنچایتوں کو آبادی کے حساب سے بجٹ الاٹ ہوتا ہے۔ ایک ہزار کی آبادی پر تقریباً 5.50 لاکھ روپے ہر سال ترقیاتی کاموں کے لیے ملتے ہیں۔ سدھارتھ نگر کے گرام ہسوڑی کی بہتر ترقی کو لے کر پردھان دلیپ ترپاٹھی مرکزی حکومت ہی نہیں، بیرون ملکی ایجنسیوں سے کئی انعام جیت چکے ہیں۔ تین بار کے پردھان دلیپ کہتے ہیں ’’گاؤں کو تقریباً 5.50 لاکھ روپے سالانہ ملتے ہیں۔ ان میں سے ٹوائلٹ، پنچایت سکریٹریوں اور پردھان کے معاوضہ کی ادائیگی میں 2.40 لاکھ خرچ ہو جاتے ہیں۔ بقیہ بچی رقم میں کون سی ترقی ہوگی؟ بستی ضلع میں سابق پردھان سیتارام کہتے ہیں کہ ’’لوگ گھر کے ٹوائلٹ کا استعمال نہیں کر رہے ہیں، کمیونٹی ٹوائلٹ کا کیا استعمال کریں گے؟‘‘
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined