قومی خبریں

مہنگائی اور عالمی چیلنجز کے درمیان آر بی آئی کا بڑا فیصلہ، ریپو ریٹ میں کیا 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ

ریپو ریٹ میں اضافے سے بینکوں کے لیے قرض لینا مہنگا ہو جائے گا، جس کا براہ راست اثر عام لوگوں پر پڑے گا، کیونکہ ہوم لون، کار لون اور پرسنل لون کی شرح سود بڑھنے سے ای ایم آئی مہنگی ہو سکتی ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>آر بی آئی / آئی اے این ایس</p></div>

آر بی آئی / آئی اے این ایس

 

ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے بدھ کو ریپو ریٹ میں 25 بیسس پوائنٹس کے اضافے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پالیسی ریٹ کو 5.25 فیصد سے بڑھا کر 5.50 فیصد کر دیا گیا ہے۔ آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا کی صدارت میں 6 رکنی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کی 3 روزہ میٹنگ کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ واضح رہے کہ فروری 2023 کے بعد مرکزی بینک نے پہلی بار ریپو ریٹ میں اضافہ کیا ہے۔

آر بی آئی نے یہ قدم عالمی غیر یقینی صورتحال اور خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کے درمیان ملک کی معیشت اور مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے اٹھایا ہے۔ ریپو ریٹ میں اس اضافے سے بینکوں کے لیے قرض لینا مہنگا ہو جائے گا، جس کا براہ راست اثر عام لوگوں پر پڑے گا، کیونکہ ہوم لون، کار لون اور پرسنل لون کی شرح سود بڑھنے سے ماہانہ قسطیں (ای ایم آئی) مہنگی ہو سکتی ہیں۔ مرکزی بینک نے بتایا کہ اسٹینڈنگ ڈپازٹ فیسلٹی (ایس ڈی ایف) ریٹ کو بڑھا کر 5.25 فیصد کر دیا گیا ہے، جبکہ مارجنل اسٹینڈنگ فیسلٹی (ایم ایس ایف) ریٹ اور بینک ریٹ کو 5.75 فیصد پر ایڈجسٹ کیا گیا ہے۔

مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا نے کہا کہ عالمی سطح پر افراط زر میں دوبارہ تیزی آنے کا خدشہ ہے، جس کے باعث دنیا کے کئی بڑے مرکزی بینک مانیٹری پالیسی کو مزید سخت کرنے کی سمت میں قدم اٹھا رہے ہیں۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ہندوستان سمیت دنیا بھر میں مہنگائی کو لے کر تشویش بڑھ رہی ہے۔ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہیں، جس سے عالمی اور ملکی افراط زر پر دباؤ بڑھا ہے۔

ماہرین اقتصادیات اور مارکیٹ ماہرین نے پہلے ہی 25 بیسس پوائنٹس کے اضافے کا امکان ظاہر کیا تھا۔ ایس بی آئی ریسرچ نے کہا تھا کہ بڑھتے مہنگائی کے دباؤ، عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال، بدلتی لیکویڈیٹی کی صورتحال اور خطرات کے ازسرنو جائزے کو دیکھتے ہوئے پہلے سے قدم اٹھانا مناسب ہوگا۔ مہنگائی کے اعداد و شمار بھی آر بی آئی کی تشویش میں اضافہ کر ر ہے ہیں۔ اگست میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) پر مبنی مہنگائی بڑھ کر 4.82 فیصد ہو گئی تھی، جو جولائی میں 4.45 فیصد تھی۔ اس کے علاوہ ال نینو کے اثر اور کم بارش کے باعث ربیع فصل کی پیداوار پر بھی خطرہ برقرار ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔