قومی خبریں

رکسول: ستیہ گرہ ایکسپریس کے سلیپر کوچ میں پھندے سے لٹکی نوجوان کی لاش برآمد، تحقیقات جاری

رکسول جی آر پی پولیس اسٹیشن کے سربراہ پون کمار نے بتایا کہ ’’نوجوان کے گردن پر ملے زخموں کے نشان اور جائے وقوعہ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس معاملے کی مختلف زاویے سے تحقیقات کر رہی ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>رکسول جنکشن (ویڈیو گریب)</p></div>

رکسول جنکشن (ویڈیو گریب)

 

رکسول ریلوے جنکشن پر واقع واشنگ پِٹ میں کھڑی ’ستیہ گرہ ایکسپریس‘ کے سلیپر کوچ (ایس-5) میں جمعہ (13 فروری) کو ایک نوجوان کی لاش پھندے سے لٹکی ہوئی ملی۔ حالانکہ یہ معاملہ خودکشی کا ہے یا قتل کا تحقیقات کے بعد ہی پتہ چلے گا۔ واقعہ کے بعد محکمہ ریلوے میں کھلبی مچ گئی ہے۔ فوری طور پر سینئر افسران کو اس کے متعلق اطلاع دی گئی۔

Published: undefined

ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی نیوز‘ پر شائع خبر کے مطابق ستیہ گرہ ایکسپریس (ٹرین نمبر 15273) صفائی اور رکھ رکھاؤ کے لیے واشنگ پِٹ میں کھڑی تھی۔ اسی دوران ریلوے ملازمین کی نظر کوچ نمبر ایس-5 میں پھندے سے لٹکے نوجوان پر گئی۔ اب تک نوجوان کی شناخت نہیں ہو پائی تھی۔ دیکھنے سے اس کی عمر 20-19 سال کے آس پاس لگ رہی تھی۔

Published: undefined

موقع پر موجود لوگوں کو مطابق نوجوان کے گلے پر چوٹ کے نشان نظر آ رہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق رکسول پہنچنے کے بعد ٹرین کو صاف صفائی کے لیے واشنگ پِٹ پر کھڑا کیا گیا تھا۔ آج ٹرین کو دوبارہ دہلی روانہ کرنے کی تیاری کی جا رہی تھی۔ اسی دوران کوچ سے یہ لاش برآمد ہوئی، جس کے بعد کہرام مچ گیا۔

Published: undefined

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی بیتیا کے ڈی ایس آر پی نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ معاملے کی سائنسی تحقیقات کے لیے ایف ایس ایل (فارنزک سائنس لیبارٹری) کی ٹیم کو بھی بلایا گیا۔ ٹیم نے موقع سے شواہد اکٹھے کیے۔ اب تحقیقات کے بعد ہی سب کچھ واضح ہو سکے گا۔ فی الحال اس معاملے میں مزید کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

Published: undefined

واقعہ کے متعلق رکسول جی آر پی پولیس اسٹیشن کے سربراہ پون کمار نے بتایا کہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ نوجوان کی شناخت کی کوشش جاری ہے۔ گردن پر ملے زخموں کے نشان اور جائے وقوعہ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس معاملے کی مختلف زاویے سے تحقیقات کر رہی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی صورتحال واضح ہو سکے گی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined