قومی خبریں

رام مندر عطیہ تنازعہ: 60 کلوگرام چاندی کی شیلائیں اور ہار بھی ریکارڈ سے غائب، ایس آئی ٹی تحقیقات میں مصروف

جویلرس ایسو سی ایشن کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس شیلائیں ٹرسٹ کو سونپنے کی رسید موجود ہے۔ ادارہ کے سربراہ انوراگ رستوگی کے مطابق ملک بھر کے جویلرس کے تعاون سے تیار چاندی کی شیلائیں عطیہ کی گئی تھیں۔

تصویر بذریعہ شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹوئٹر ہینڈل
تصویر بذریعہ شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹوئٹر ہینڈل 

رام مندر عطیہ چوری معاملہ کی ایس آئی ٹی جانچ جاری ہے۔ اس دوران ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ نے ایک رپورٹ شائع کی ہے، جس میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس ایسے قیمتی عطیات یا نذرانوں کی تصاویر موجود ہیں، جن کی تلاش میں ایس آئی ٹی مصروف ہے۔ رپورٹ کے مطابق رام مندر کی پران پرتشٹھا کے دوران رام للا کو نذر کی گئی اور مندر کی بنیاد میں رکھنے کے لیے دی گئی چاندی کی شیلا تفتیش کی ایک بڑی پہیلی بن گئی ہیں۔ اس کے علاوہ جونپور کے وشوکرما خاندان کی جانب سے پیش کردہ ہار کا بھی کوئی ریکارڈ نہیں مل پا رہا ہے۔

Published: undefined

’آج تک‘ کے مطابق جانچ کے 6 دنوں کے دوران ایس آئی ٹی نے ان عطیات کا ریکارڈ اور موجودہ حالت جاننے کی کوشش کی، لیکن اب تک کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ جویلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے رام مندر کی بنیاد میں رکھنے کے لیے دی گئی 60 کلو چاندی کی شیلاؤں کا بھی کوئی ٹھوس ریکارڈ تحقیقاتی ٹیم کو نہیں ملا ہے۔ جویلرز ایسوسی ایشن کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس شیلائیں ٹرسٹ کو سونپنے کی رسید موجود ہے۔ ادارہ کے سربراہ انوراگ رستوگی کے مطابق ملک بھر کے جویلرز کے تعاون سے تیار کی گئی 60 کلو چاندی کی شیلائیں رام مندر کو نذر کی گئی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بنیاد پوجن اور تعمیراتی عمل کے دوران یہ شیلائیں کہیں نظر نہیں آئیں اور بعد میں ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

Published: undefined

’آج تک‘ پر شائع رپورٹ کے مطابق ایس آئی ٹی یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ چاندی کی شیلائیں آخر کہاں گئیں اور اس وقت ان کی کیا حالت ہے؟ اس معاملے میں رام شنکر یادو عرف ٹنّو، کرشن دیو تیواری اور رام للا کے 4 پجاریوں سے پوچھ گچھ کی جا چکی ہے۔ زیورات اور عطیات و نذرانوں کی دیکھ بھال سے وابستہ کرشن دیو تیواری نے ہار، چرن پادوکا اور چاندی کی شیلاؤں کے بارے میں معلومات ہونے سے انکار کیا ہے۔ ایس آئی ٹی کے سینئر رکن، لکھنؤ کمشنر وجے وشواس پنت، آئی جی کرن ایس اور خصوصی سکریٹری نیل رتن کمار نے پورے معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا۔ تحقیقاتی ٹیم نے اس وقت ڈیوٹی پر موجود پجاریوں اور متعلقہ افراد سے واقعات کی تصدیق کرنے کی کوشش کی۔ ایس آئی ٹی یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے کہ قیمتی نذرانوں کو جمع کرنے، محفوظ رکھنے اور ان کا ریکارڈ مرتب کرنے کا طریقۂ کار کیا تھا۔

Published: undefined

رام مندر میں پران پرتشٹھا کے دوران جونپور کے وشوکرما خاندان کی جانب سے رام للا کو پیش کیا گیا قیمتی ہار اور چرن پادوکا کا بھی اب تک ایس آئی ٹی کو کوئی ریکارڈ نہیں ملا ہے۔ جانچ کے دوران ایس آئی ٹی نے ہار اور چرن پادوکا کا سراغ لگانے کی کوشش کی، لیکن اب تک ان کے بارے میں کوئی واضح معلومات حاصل نہیں ہو سکی ہیں۔ اسی طرح 60 کلو چاندی کی شیلاؤں کے بارے میں بھی کوئی مصدقہ معلومات دستیاب نہیں ہوئیں۔ اس معاملہ میں رام شنکر یادو عرف ٹنّو، کرشن دیو تیواری اور رام للا کے 4 پجاریوں سے پوچھ گچھ کی گئی۔ پجاری موہت پانڈے نے ایس آئی ٹی کو بتایا کہ انہوں نے ہار رام للا کو پہنانے کے بعد دوبارہ ٹنّو یادو کے حوالے کر دیا تھا۔ ٹنّو یادو کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ ہار کو اینٹ کی شکل میں ڈھالنے کے لیے بنگلورو بھیج دیا گیا تھا۔ اب ایس آئی ٹی یہ معلوم کرنے میں مصروف ہے کہ ہار دراصل کہاں گیا اور اس کی موجودہ حالت کیا ہے۔

Published: undefined

تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مبینہ طور پر بنگلورو بھیجے جانے کا کوئی ٹھوس ریکارڈ، رسید یا دستاویز دستیاب نہیں ہے۔ زیورات کی نگرانی سے وابستہ کرشن دیو تیواری نے بھی ہار اور چرن پادوکا کے بارے میں معلومات ہونے سے انکار کیا ہے۔ ریکارڈ جمع کرنے کے لیے تحقیقاتی ٹیم نے اس وقت ڈیوٹی پر موجود پجاریوں سے واقعات کی تصدیق کی اور ہار کی منتقلی کی پوری کڑی کو سمجھنے کی کوشش کی۔

Published: undefined

واضح رہے کہ 2 دن قبل روکڑیا ہنومان مندر کے آچاریہ ونود مشرا نے میڈیا کے سامنے دعویٰ کیا تھا کہ جونپور کے اجے وشوکرما اور ان کے خاندان نے ٹنّو یادو کے ذریعہ یہ تحفہ رام للا کو پیش کیا تھا۔ ہار پر دوادش جیوترلنگ کندہ کیے گئے تھے، جبکہ چرن پادوکا پر 64 چرن نشانات نقش تھے۔ عقیدت مند خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں رام للا کے گلے میں ہار پہنے ہوئے تصویر فراہم کرنے کا یقین دلایا گیا تھا، لیکن آج تک وہ تصویر نہیں ملی۔ اجے وشوکرما نے یہ قیمتی زیور ممبئی میں خصوصی طور پر تیار کروایا تھا۔ اب ایس آئی ٹی کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ نہ تو ہار اور چرن پادوکا کا کوئی ریکارڈ مل رہا ہے اور نہ ہی ان کے جمع کرائے جانے کی کوئی سرکاری رسید دستیاب ہے۔ تحقیقاتی ایجنسیاں یہ بھی پتہ لگا رہی ہیں کہ یہ معاملہ صرف لاپروائی کا نتیجہ ہے یا پھر قیمتی نذرانوں کے غائب ہونے کے پیچھے کوئی بڑا نیٹورک سرگرم تھا۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined