قومی خبریں

رام مندر عطیات تنازعہ کے درمیان چمپت رائے اور انل مشرا مستعفی، ٹرسٹ نے کی تصدیق

رام مندر عطیات سے متعلق تنازعہ کے درمیان چمپت رائے اور انل مشرا کے استعفوں کی تصدیق کر دی ہے۔ ٹرسٹ کے مطابق دونوں کے استعفے موصول ہو چکے ہیں جبکہ معاملے کی جانچ اور قانونی کارروائی جاری ہے

<div class="paragraphs"><p>رام مندر، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

رام مندر، تصویر سوشل میڈیا

 

ایودھیا میں رام مندر کے عطیات سے متعلق تنازعہ کے درمیان شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ نے اپنے سکریٹری چمپت رائے اور ٹرسٹی انل مشرا کے استعفوں کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ ٹرسٹ کی جانب سے جاری پریس بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں کے استعفے موصول ہو چکے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مندر کے عطیات سے متعلق بے ضابطگیوں کے معاملے کی جانچ جاری ہے۔

Published: undefined

ٹرسٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ حالیہ واقعات سے وہ شدید صدمے اور دکھ کی کیفیت میں ہے اور رام بھکتوں کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے منصفانہ اور شفاف جانچ کو یقینی بنانے کے عزم پر قائم ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹرسٹ اس معاملے میں تمام ضروری اقدامات کر رہا ہے تاکہ حقائق سامنے آئیں اور عقیدت مندوں کا اعتماد برقرار رہے۔

پریس بیان میں ان عقیدت مندوں کو بھی اطمینان دلایا گیا ہے جنہوں نے چاندی کی اینٹیں، سونے کے زیورات یا دیگر قیمتی اشیا شری رام کی خدمت کے لیے ٹرسٹ کے ذمہ داران کے حوالے کی تھیں۔ ٹرسٹ کے مطابق یہ تمام اشیا مکمل طور پر محفوظ ہیں اور ان کا مکمل حساب کتاب موجود ہے۔

Published: undefined

ٹرسٹ نے مزید بتایا کہ عطیات سے متعلق معاملے میں اتر پردیش حکومت کی تشکیل کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی عبوری رپورٹ کی بنیاد پر اس کی درخواست پر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔ ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے اور قصورواروں کو قانون کے مطابق سزا دلانے کی کوشش کی جائے گی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بعض سماج دشمن، مذہب مخالف اور ذاتی مفاد رکھنے والے عناصر اس تنازعہ کی آڑ میں سناتن دھرم کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹرسٹ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا یا دیگر ذرائع سے پھیلائی جانے والی بے بنیاد افواہوں پر یقین نہ کریں اور صرف مصدقہ معلومات پر اعتماد کریں۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined