قومی خبریں

راجیہ سبھا انتخابات 2026: 37 میں سے 21 نشستیں این ڈی اے کے نام، 16 انڈیا بلاک کے حصے میں

راجیہ سبھا انتخابات 2026 میں 37 میں سے 21 نشستیں این ڈی اے اور 16 انڈیا بلاک کو ملیں۔ 26 نشستیں بلا مقابلہ طے ہوئیں جبکہ 11 پر ووٹنگ ہوئی، جن میں اوڈیشہ، بہار اور ہریانہ شامل ہیں

<div class="paragraphs"><p>راجیہ سبھا / آئی اے این ایس</p></div>

راجیہ سبھا / آئی اے این ایس

 

راجیہ سبھا انتخابات 2026 میں ملک بھر کی 37 نشستوں کے لیے ہونے والے انتخابی عمل میں این ڈی اے نے 21 نشستیں حاصل کیں جبکہ انڈیا بلاک کو 16 نشستیں ملیں۔ ان نتائج کے ساتھ ایوان بالا میں طاقت کا توازن واضح ہوا ہے، جہاں حکمراں اتحاد اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہا جبکہ اپوزیشن کو چند اہم ریاستوں میں نقصان اٹھانا پڑا۔

ان 37 نشستوں میں سے 26 پر امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہو گئے تھے، جبکہ باقی 11 نشستوں پر ووٹنگ ہوئی۔ ان میں ہریانہ کی 2، بہار کی 5 اور اوڈیشہ کی 4 نشستیں شامل تھیں، جہاں مقابلہ نسبتاً سخت اور بعض مقامات پر تنازعات سے بھی گھرا رہا۔

Published: undefined

اوڈیشہ میں 4 نشستوں کے لیے ہونے والے انتخاب میں بی جے پی نے 2 نشستیں جیتیں جبکہ اس کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار دلیپ رائے بھی کامیاب رہے۔ بی جے ڈی کو صرف ایک نشست حاصل ہو سکی۔ چوتھی نشست کے لیے بی جے ڈی، کانگریس اور سی پی ایم نے مشترکہ امیدوار کی حمایت کی تھی، تاہم وہ کامیاب نہ ہو سکا۔

بہار میں این ڈی اے نے اپنی عددی برتری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 5 میں سے 4 نشستیں حاصل کیں۔ اپوزیشن اتحاد کو اس وقت نقصان ہوا جب کانگریس کے 3 اور راشٹریہ جنتا دل کے ایک رکن اسمبلی نے پارٹی لائن کے خلاف ووٹ دیا۔ اے آئی ایم آئی ایم اور بی ایس پی کی حمایت کے باوجود اپوزیشن پانچویں نشست نہیں جیت سکی۔ ترجیحی ووٹوں کی گنتی کے بعد این ڈی اے امیدواروں کی جیت کی تصدیق ہو گئی۔

Published: undefined

اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے ساتھ بے وفائی نہ ہوتی تو وہ کامیاب ہو سکتے تھے کیونکہ انہیں مطلوبہ ووٹ حاصل ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا اور آئندہ کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔

ہریانہ میں دو نشستوں کے لیے سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا جہاں بی جے پی کے سنجے بھاٹیہ اور کانگریس کے کرم ویر بودھ کامیاب قرار پائے۔ اس انتخابی عمل کے دوران ووٹنگ کی رازداری کی خلاف ورزی اور کراس ووٹنگ کے الزامات بھی سامنے آئے۔ دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے پر ضابطہ شکنی کے الزامات عائد کیے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined