قومی خبریں

راجستھان پنچایت انتخابات: تیسرے مرحلے کی ووٹنگ مکمل، کئی مقامات پر تشدد کے درمیان 70 فیصد سے زائد پولنگ

راجستھان کے 27 اضلاع کی 3716 گرام پنچایتوں میں ووٹنگ مکمل؛ مجموعی پولنگ 70 فیصد سے زیادہ رہنے کا اندازہ ہے۔ گنتی جاری ہے اور دیر رات نتائج متوقع ہیں

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>

تصویر سوشل میڈیا

 

راجستھان میں پنچایتی راج انتخابات کے تیسرے مرحلے میں جمعرات کو 27 اضلاع کی 3716 گرام پنچایتوں میں سرپنچ اور وارڈ پنچ کے عہدوں کے لیے ووٹنگ مکمل ہوگئی۔ مجموعی پولنگ 70 فیصد سے زیادہ رہنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے۔ سہ پہر تین بجے تک 63.61 فیصد ووٹنگ ریکارڈ ہوئی تھی۔ شام چھ بجے پولنگ ختم ہونے کے بعد گرام پنچایت ہیڈکوارٹروں پر ووٹوں کی گنتی شروع کردی گئی۔ انتخابی نتائج دیر رات تک آنے کی توقع ہے۔

اس مرحلے میں سرپنچ کے 3716 اور وارڈ پنچ کے 34218 عہدوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔ ریاست بھر میں 11869 پولنگ مراکز قائم کیے گئے تھے، جہاں ایک کروڑ چھ لاکھ سے زیادہ ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل تھے۔ دھولپور ضلع میں 126 گرام پنچایتوں کے 426 مراکز پر 70 فیصد سے زیادہ ووٹنگ درج کی گئی۔

ووٹنگ کے دوران کئی مقامات پر ہنگامہ آرائی، مارپیٹ اور جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ جھنجھنو ضلع کے نوال گڑھ علاقے کے دیلسر گاؤں میں بدھ کی رات سرپنچ امیدواروں کے حامیوں کے درمیان لاٹھیوں سے تصادم ہوا۔ پولیس کے مطابق، اس واقعے میں پنجاب کے ہوشیارپور سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کی موت ہوئی، جبکہ دو افراد زخمی ہوگئے۔ مہلوک کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی اور پولیس ملزمان کی تلاش کررہی ہے۔

سیکر ضلع کی بھوجیا کی ڈھانی گرام پنچایت میں سرپنچ امیدوار ارون پاریک کے ساتھ مارپیٹ ہوئی۔ پاریک نے الزام لگایا کہ ان کے حریف کشور کمار کماوت اور اس کے تقریباً 50 حامیوں نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ سیکر کے سامی علاقے میں بھی پتھراؤ اور مارپیٹ کی اطلاعات ہیں۔

چتورگڑھ ضلع کے بسی علاقے میں ہنگامے کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا۔ بھوپال ساگر گرام پنچایت میں مبینہ جعلی ووٹنگ پر بھی تنازع ہوا اور پولیس نے حالات قابو میں کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ جالور ضلع کے چتلوانا میں جعلی ووٹنگ کے الزام پر دو گروہوں کے درمیان جھگڑا ہوا؛ پولیس نے موقع پر پہنچ کر ہجوم کو ہٹایا۔ ہنومان گڑھ ضلع کی رتن پور گرام پنچایت میں بھی امیدواروں کے حامیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی۔

دوسہ ضلع کے سینتھل میں 28 سالہ نصیبن خاں نے ووٹ ڈالا۔ بوتھ لیول افسر نریش وجے نے بتایا کہ ان کا قد ایک فٹ ہے۔ چورو ضلع کی لودی جھابر گرام پنچایت میں سرپنچ کے عہدے کے لیے ووٹنگ نہیں ہوئی، کیونکہ جانچ کے دوران واحد امیدوار کا نامزدگی پرچہ مسترد ہوگیا تھا۔

انتخابات چار مرحلوں میں کرائے جارہے ہیں۔ ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی ارکان کے پہلے تین مراحل 22 اور 28 اکتوبر، اور 3 نومبر کو ہوئے تھے۔ چوتھے مرحلے کی ووٹنگ 14 نومبر کو ہوگی۔ پنچ اور سرپنچ کے پہلے دو مرحلے 24 اور 30 اکتوبر کو ہو چکے ہیں؛ آخری مرحلہ 16 نومبر کو ہوگا۔ نائب سرپنچ کا تیسرا مرحلہ 6 نومبر کو اور آخری مرحلہ 17 نومبر کو طے ہے۔ ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی ارکان کی گنتی 20 نومبر کو ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔