قومی خبریں

نیٹ تنازعہ: راہل گاندھی کل پہنچیں گے کوٹہ، طلبہ کی آواز کو قومی تحریک میں بدلنے کی تیاری

راہل گاندھی کل ٹرین کے ذریعے کوٹہ پہنچ کر نیٹ کے امیدواروں سے براہ راست ملاقات کریں گے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ نوجوانوں کے حقوق، امتحانی شفافیت اور نظامی ناکامیوں کے خلاف ایک قومی تحریک کا آغاز ہے

<div class="paragraphs"><p>راہل&nbsp; گاندھی</p></div>

راہل  گاندھی

 

نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی کل یعنی 17 جون کو حضرت نظام الدین سے جن شتابدی ایکسپریس کے ذریعے راجستھان کے شہر کوٹہ پہنچیں گے جہاں وہ نیٹ اور دیگر مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ سے براہ راست گفتگو کریں گے۔

کانگریس اس دورے کو نوجوانوں کے مسائل، امتحانی بدعنوانیوں اور مسلسل سامنے آنے والے پرچہ افشا ہونے کے واقعات کے خلاف ایک اہم قومی مہم کا نقطۂ آغاز قرار دے رہی ہے۔ پارٹی کے مطابق راہل گاندھی نے دانستہ طور پر روایتی سیاسی طرز عمل اور خصوصی پروٹوکول سے گریز کرتے ہوئے عام مسافروں کی طرح ریل کے ذریعے سفر کا انتخاب کیا ہے تاکہ نوجوانوں کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ ان کے مسائل ملک کی سیاست کے مرکز میں ہیں۔

Published: undefined

کانگریس کی جانب سے اس مہم کو ’طلبہ کی گونج‘ کا نام دیا گیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہوگی کہ یہاں روایتی سیاسی تقاریر نہیں ہوں گی بلکہ راہل گاندھی کئی گھنٹوں تک طلبہ کے درمیان موجود رہ کر ان کی مشکلات، خدشات، تجربات اور تجاویز سنیں گے۔ کانگریس کا مؤقف ہے کہ ملک بھر میں لاکھوں نوجوان امتحانی نظام پر اعتماد کے بحران کا شکار ہیں اور انہیں محسوس ہوتا ہے کہ سخت محنت کے باوجود ان کے مستقبل کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔

پارٹی کا الزام ہے کہ گزشتہ برسوں میں متعدد قومی سطح کے امتحانات تنازعات، پرچہ افشا ہونے کے واقعات اور انتظامی بے ضابطگیوں کی زد میں رہے ہیں، جس کے باعث نوجوانوں میں بے چینی بڑھتی گئی۔ کانگریس کے مطابق قومی امتحانی ایجنسی نوجوانوں کے اعتماد کو بحال کرنے میں ناکام رہی ہے اور حکومت نے بھی امتحانی نظام میں بنیادی اصلاحات کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو روزگار، بھرتیوں اور امتحانات کے حوالے سے مسلسل غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، جس نے ایک پوری نسل کے خوابوں کو متاثر کیا ہے۔

Published: undefined

اس دورے سے قبل راہل گاندھی نے اپنے پیغام میں کہا کہ آج کے ہندوستان میں نوجوانوں کو محنت کا صلہ نہیں بلکہ خواب دیکھنے کی سزا مل رہی ہے۔ ان کے مطابق ہر افشا ہونے والا پرچہ، ہر منسوخ ہونے والا امتحان اور ہر رکی ہوئی بھرتی صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ کروڑوں نوجوانوں کی امیدوں پر حملہ ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ جب حکومت نوجوانوں کی آواز سننے میں ناکام ہو جائے تو جمہوری طریقے سے ان کی آواز کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہو جاتا ہے۔

دوسری جانب سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض حلقے طلبہ کو اس پروگرام میں شرکت سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کوچنگ اداروں اور رہائشی سہولیات سے وابستہ افراد پر دباؤ ڈالے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ کانگریس نے ان دعوؤں کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کو اپنی بات کہنے اور جمہوری سرگرمیوں میں حصہ لینے کا مکمل حق حاصل ہے۔

Published: undefined

پارٹی کے مطابق کوٹہ سے شروع ہونے والی یہ مہم صرف ایک شہر تک محدود نہیں رہے گی بلکہ آنے والے ہفتوں میں ملک کے مختلف تعلیمی اور امتحانی مراکز تک پہنچے گی۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ اس مہم کے ذریعے نوجوانوں کے مسائل کو پارلیمنٹ اور قومی سطح پر زیادہ مؤثر انداز میں اٹھایا جائے گا۔ پارٹی نیٹ امتحان کے ڈھانچے میں اصلاحات، مسابقتی امتحانات کی فیس ختم کرنے، پرچہ افشا کرنے والے گروہوں کے خلاف سخت کارروائی اور تعلیمی نظام میں جوابدہی کے مطالبات کو عوامی سطح پر مزید مضبوط بنانے کی کوشش کرے گی۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined