
تصویر آئی این سی
گجرات کے وڈودرا میں منعقدہ ’آدیواسی ادھیکار سمودھان سمیلن‘ میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے آدیواسیوں کے حقوق، زمین اور وسائل کے مسائل کو مرکزی موضوع بناتے ہوئے مرکزی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز ’آدیواسی‘ لفظ کی تشریح سے کیا اور کہا کہ اس کا مطلب اس ملک کے اصل باشندے ہیں، جن کے پاس کبھی پورے ملک کی زمین تھی مگر وقت کے ساتھ ان سے یہ زمین چھین لی گئی۔
راہل گاندھی نے کہا کہ آدیواسیوں کی تاریخ دراصل ان کے حقوق اور زمین کے چھن جانے کی تاریخ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی آدیواسیوں کو ترقی کے نام پر بے دخل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ’ونواسی‘ لفظ کے استعمال پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ لفظ آدیواسیوں کے اصل حق کو کمزور کرتا ہے اور انہیں محض جنگل میں رہنے والا ظاہر کرتا ہے، جبکہ ’آدیواسی‘ انہیں اس ملک کا اصل مالک تسلیم کرتا ہے۔
Published: undefined
انہوں نے کہا کہ حکومت آدیواسیوں کے ’جل، جنگل، زمین‘ پر قبضہ کر کے انہیں بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کے حوالے کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی ترقیاتی منصوبے آتے ہیں تو سب سے پہلے آدیواسیوں کی زمین لی جاتی ہے اور اکثر انہیں مناسب معاوضہ بھی نہیں دیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل سے نہ صرف آئینی حقوق متاثر ہوتے ہیں بلکہ آدیواسی رہنماؤں جیسے برسا منڈا کے نظریات پر بھی ضرب پڑتی ہے۔
راہل گاندھی نے ذات پات کی مردم شماری کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک میں مختلف طبقات کی حقیقی حصہ داری سامنے آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ آدیواسی، دلت اور پسماندہ طبقات کی آبادی زیادہ ہونے کے باوجود انہیں حکومت، بیوروکریسی اور کارپوریٹ سیکٹر میں مناسب نمائندگی نہیں مل رہی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کی بڑی کمپنیوں، نجی اسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں ان طبقات کی موجودگی نہ کے برابر ہے۔
Published: undefined
انہوں نے نجکاری کی پالیسی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس سے ریزرویشن کا نظام کمزور ہوا ہے اور پسماندہ طبقات کے لیے مواقع محدود ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق پہلے سرکاری شعبوں میں ریزرویشن کے ذریعے آدیواسی اور دیگر طبقات کو روزگار ملتا تھا مگر نجکاری کے بعد یہ راستہ بند ہوتا جا رہا ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کا فائدہ صرف چند بڑے صنعت کاروں کو ہو رہا ہے، جبکہ عام لوگ ٹیکس ادا کر کے بھی محروم ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بڑے صنعت کاروں کے قرض معاف کیے جا رہے ہیں، جبکہ غریبوں کو کوئی سہولت نہیں دی جاتی۔
Published: undefined
تعلیم اور صحت کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کو مضبوط کیے بغیر آدیواسی اور غریب طبقات کے بچوں کو معیاری تعلیم نہیں مل سکتی۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو سرکاری اسکولوں، کالجوں اور اسپتالوں کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ سب کو یکساں مواقع مل سکیں۔
اپنی تقریر کے آخری حصے میں راہل گاندھی نے بین الاقوامی اور قومی سیاست پر بھی بات کی اور الزام لگایا کہ حکومت کی خارجہ پالیسی کمزور ہو رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کے مفادات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے اور اس کا براہ راست اثر غریب اور آدیواسی طبقات پر پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئین کی حفاظت سب کی ذمہ داری ہے کیونکہ یہی دستاویز آدیواسیوں، غریبوں اور مزدوروں کے حقوق کی ضمانت دیتی ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں اور ایک واضح منشور کے ساتھ آگے بڑھیں تاکہ مستقبل میں انہیں برابری کا حق مل سکے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined