قومی خبریں

اینٹی پیپر لیک بل: راہل گاندھی کا حکومت پر حملہ، ’طلبہ کا غصہ جائز، تعلیمی نظام شدید بحران کا شکار‘

لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک بل پر بحث کے دوران راہل گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کا غصہ جائز ہے، تعلیمی نظام بحران کا شکار ہے، نجکاری اور پیپر لیک سے لاکھوں طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی / ویڈیو گریب</p></div>

راہل گاندھی / ویڈیو گریب

 

نئی دہلی: لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل، 2026 پر جاری بحث کے دوران اپوزیشن لیڈر اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا تعلیمی نظام گہرے بحران سے دوچار ہے اور پیپر لیک کے مسلسل واقعات نے لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کا غصہ اور ان کا احتجاج مکمل طور پر جائز ہے، کیونکہ وہ اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ حالیہ طلبہ تحریک دراصل ملک کے نوجوانوں کے جذبات کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان کے مطابق طلبہ کو اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر آنا پڑا، جو خود اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ امتحانی نظام پر ان کا اعتماد متزلزل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت، خصوصاً حکمراں جماعت، کو نوجوانوں کے جذبات کو سمجھنا اور ان کا احترام کرنا چاہیے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ احتجاج میں شامل طلبہ اور طالبات سے گفتگو کے دوران انہیں نوجوانوں کی سوچ کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ نے انہیں بتایا کہ ایک حقیقی طالب علم وہ ہوتا ہے جو کھلے ذہن اور کھلے دل کے ساتھ علم حاصل کرتا ہے، یہ تسلیم کرتا ہے کہ سیکھنے کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا اور ہر وقت نئے علم کی گنجائش موجود رہتی ہے۔ ان کے مطابق عاجزی اور مسلسل سیکھنے کا جذبہ ہی ایک طالب علم کی اصل پہچان ہے۔

انہوں نے تعلیمی نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ غریب اور متوسط طبقے کے خاندان اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے لاکھوں روپے خرچ کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ دوسری جانب تعلیم کا دائرہ مسلسل نجی اداروں کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنی بھاری مالی ذمہ داری اٹھانے کے باوجود طلبہ کو شفاف اور محفوظ امتحانی نظام میسر نہیں آ رہا، کیونکہ مختلف امتحانات میں بار بار پیپر لیک کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔

راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ موجودہ تعلیمی نظام بری طرح متاثر ہو چکا ہے اور اس پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے۔ ان کے مطابق جب تک تعلیمی اداروں کی خودمختاری، شفافیت اور احتساب کو مضبوط نہیں بنایا جائے گا، اس وقت تک صرف قانون سازی سے امتحانی بے ضابطگیوں کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔

اپوزیشن لیڈر نے اپنی تقریر میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی عدم موجودگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس اہم بحث کے دوران ان کی موجودگی ضروری تھی۔ ان کے اس بیان پر حکمراں اتحاد کے ارکان نے شدید اعتراض کیا، جبکہ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے راہل گاندھی کے بعض ریمارکس کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی سینئر وزیر کے خلاف بغیر ثبوت کے الزامات نہیں لگائے جا سکتے۔

بعد ازاں اسپیکر اوم برلا نے بھی ایوان میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں کسی بھی رکن کے خلاف ایسے الزامات سے گریز کیا جانا چاہیے جن کی تائید شواہد سے نہ ہوتی ہو۔ انہوں نے ایوان کی کارروائی حقائق اور ضابطوں کے مطابق چلانے پر زور دیا۔

قابل ذکر ہے کہ اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مسلسل دوسرے روز بھی تفصیلی بحث جاری رہی، جس میں پیپر لیک، امتحانی شفافیت، تعلیمی اصلاحات اور طلبہ کے مستقبل جیسے موضوعات نمایاں رہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون امتحانی نظام کو مضبوط بنانے اور منظم پیپر لیک مافیا کے خلاف سخت کارروائی یقینی بنانے کے لیے لایا گیا ہے، جبکہ اپوزیشن کا موقف ہے کہ صرف سخت سزاؤں سے مسئلے کا حل ممکن نہیں بلکہ تعلیمی نظام میں بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔