
راہل گاندھی، تصویر سوشل میڈیا
نئی دہلی: دہلی کے تِلک نگر میں سڑک کی تعمیر کے معائنے کے دوران ایک نوجوان کو تھپڑ مارنے کے معاملے نے سیاسی رخ اختیار کر لیا ہے۔ واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں قائد حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو نشانہ بنایا ہے۔
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا کہ دہلی کی بی جے پی حکومت کے ایک وزیر ویڈیو میں ایک نوجوان کو تھپڑ مارتے دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ نوجوان کا قصور کیا تھا؟ ان کے مطابق وہ صرف ویڈیو بنا رہا تھا اور وزیر کے سامنے سڑک کی حالت دکھائی جا رہی تھی۔
راہل گاندھی نے لکھا کہ یہ اس اقتدار کا چہرہ ہے جسے اب ووٹروں کا خوف نہیں رہا۔ انہوں نے کہا، ’’سڑک پر سوال پوچھو- تھپڑ، پیپر لیک پر سوال پوچھو- لاٹھی، پارلیمنٹ میں سوال پوچھو- مائیک بند۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ایسے رویے کی وجہ یہ ہے کہ حکمرانوں کو اب یہ خوف نہیں رہا کہ انتخابات انہیں اقتدار سے ہٹا سکتے ہیں۔
کانگریس رہنما نے مزید الزام عائد کیا کہ ’ووٹ چوری‘ صرف انتخابی نتائج نہیں خریدتی بلکہ اس کے بعد آنے والی خود پسندی بھی خریدتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو حکومت اپنی جیت کو یقینی سمجھنے لگتی ہے، اسے عوام کی رضامندی کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی بلکہ وہ عوام سے خاموشی اور اندھی عقیدت چاہتی ہے۔
یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب دہلی کے محکمہ تعمیرات عامہ (پی ڈبلیو ڈی) کے وزیر پرویش ورما تِلک نگر میں سڑک کا معائنہ کرنے پہنچے تھے۔ سامنے آنے والی ویڈیو میں ورما ایک نوجوان کا موبائل فون نیچے کرتے اور پھر اس کے چہرے پر ہاتھ اٹھاتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے بعد نوجوان اور وزیر کے درمیان تلخ کلامی بھی نظر آتی ہے، جبکہ ایک سکیورٹی اہلکار دونوں کے درمیان آ جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق نوجوان کی شناخت صاحب کے طور پر ہوئی ہے۔ صاحب نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ڈبلیو ڈی کی جانب سے سڑک کی حالت کا جائزہ لینے کے لیے انہیں موقع پر بلایا گیا تھا۔ اس کے مطابق اس نے وزیر کو سڑک کی خراب سطح دکھائی، جس کے بعد وزیر نے اس پر ہاتھ اٹھایا۔ صاحب نے پولیس میں شکایت دینے کی بھی بات کہی ہے۔
دوسری جانب پرویش ورما نے اپنے دفاع میں کہا ہے کہ موقع پر موجود عآپ کارکنوں نے ان کے خاندان کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے، جس کے بعد انہوں نے ردعمل ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہوا، وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔
واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد عام آدمی پارٹی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے بھی پرویش ورما پر تنقید کی ہے۔ دہلی پولیس کو نوجوان کی جانب سے شکایت موصول ہونے کی بھی اطلاع ہے اور پولیس واقعے کے حقائق کی جانچ کر رہی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔