قومی خبریں

اتراکھنڈ میں سرمایہ کاری کے دعووں پر راہل گاندھی کے سوال، کہا- ’دھامی حکومت کا فریب ڈبل انجن ماڈل کی ایک اور مثال‘

راہل گاندھی نے اتراکھنڈ میں سرمایہ کاری کے دعووں پر دھامی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے ایک رپورٹ شیئر کی جس میں مشتبہ منصوبوں کو سرمایہ کاری کی فہرست میں شامل کرنے پر سوال اٹھائے گئے ہیں

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>

تصویر اے آئی

 

نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے اتراکھنڈ میں سرمایہ کاری کے دعووں کو لے کر وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کی قیادت والی بی جے پی حکومت پر نشانہ لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلوبل انویسٹرس سمٹ کے نام پر سرمایہ کاری کے بڑے بڑے دعوے کیے گئے، لیکن زمینی حقیقت ان دعووں سے مختلف ہے۔ راہل گاندھی نے اسے بی جے پی کے ’ڈبل انجن‘ ماڈل کی ایک اور مثال قرار دیا۔

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر نیوز لانڈری کی ایک ویڈیو اسٹوری شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اتراکھنڈ میں سرمایہ کاری کے نام پر دھامی حکومت نے فریب کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سرمایہ کاری کے دعووں کے پیچھے حقیقت کیا ہے اور حکومت کو سرمایہ کاروں کی مکمل فہرست عوام کے سامنے رکھنی چاہیے۔

راہل گاندھی کے مطابق، دسمبر 2023 میں منعقدہ گلوبل انویسٹرس سمٹ کے لیے 1779 مفاہمت ناموں (ایم او یو) کے ذریعے 3.56 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے معاہدوں کا اعلان کیا گیا تھا۔ ان معاہدوں کے لیے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے لندن، دبئی سمیت کئی شہروں میں روڈ شو کیے، جن پر آر ٹی آئی سے حاصل معلومات کے مطابق، عوام کے تقریباً 100 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔

نیوز لانڈری کی رپورٹ کے مطابق، حکومت نے بعد میں تقریباً 3300 اداروں اور منصوبوں کے ذریعے ایک لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری زمین پر اترنے کا دعویٰ کیا۔ تاہم، رپورٹ میں اس فہرست میں شامل متعدد اداروں اور منصوبوں پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ایک لاکھ کروڑ روپے کی زمینی سرمایہ کاری میں سے 35279 کروڑ روپے، یعنی تقریباً 35 فیصد، سرکاری بجلی کمپنیوں یو جے وی این ایل اور ٹی ایچ ڈی سی انڈیا سے وابستہ منصوبوں کے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان میں سرکاری اداروں کے منصوبوں کو بھی سرمایہ کاری کے طور پر شمار کیا گیا، حالاں کہ سرمایہ کاروں کی سمٹ کا بنیادی مقصد نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہوتا ہے۔

نیوز لانڈری نے اپنی تحقیقات میں یہ بھی پایا کہ سرمایہ کاری کی فہرست میں آٹا چکیاں، کھاد اور بیج کی دکانیں اور چھوٹے کلینک شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق، کچھ لوگوں کو تو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ان کے کاروبار کو سرمایہ کاروں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

اسی طرح، دہرادون میں خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کے ایک اسکول کو 24.49 کروڑ روپے کا سرمایہ کار دکھایا گیا، حالانکہ یہ اسکول گزشتہ 30 برس سے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کے فنڈ اور عطیات سے چل رہا ہے۔ رپورٹ میں بلڈینز انڈسٹریز پرائیویٹ لمیٹڈ کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے، جسے ہریدوار میں 1200 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرنے والا ادارہ بتایا گیا۔ تاہم، وزارت کارپوریٹ امور کے ریکارڈ کے مطابق، مالی سال 2021-22 سے 2024-25 تک اس کی آپریشنل آمدنی صفر رہی اور کمپنی میں ایک بھی ملازم درج نہیں تھا۔

نیوز لانڈری کے مطابق، سمٹ سے محض سات روز قبل، یکم دسمبر 2023 کو، حکومت نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے کسی منصوبے کو زمین پر اتری ہوئی سرمایہ کاری قرار دینے کے معیار میں تبدیلی کی تھی۔ نئے ضابطے کے تحت، حکومت کی جانب سے الاٹ کیے جانے والے منصوبے کو مجاز اتھارٹی کی طرف سے الاٹمنٹ لیٹر جاری ہونے پر ہی زمینی سطح پر نافذ سمجھا جا سکتا تھا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اڈانی گروپ کے 2500 کروڑ روپے، جے ایس ڈبلیو گروپ کے 15000 کروڑ روپے اور یتھارتھ اسپتال کے 800 کروڑ روپے کے اعلان کردہ سرمایہ کاری منصوبے زمینی سطح پر نافذ منصوبوں کی فہرست میں شامل نہیں تھے۔ رام دیو کے پتنجلی گروپ کی جانب سے 10000 کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کے اعلان کے باوجود، فہرست میں اس کے نام پر صرف 39 کروڑ روپے درج تھے۔

راہل گاندھی نے مطالبہ کیا کہ حکومت 3,300 سرمایہ کاروں کی مکمل فہرست عوامی کرے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سرمایہ کاری کاغذوں پر اور روزگار صرف نعروں میں ہے، جب کہ اتراکھنڈ کے نوجوانوں کو پیپر لیک جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔